کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 37 of 162

کتابِ تعلیم — Page 37

دولتمند ہو کر بڑا عہدہ پا کر بڑا تاجرین کریٹری بادشاہی تک پہنچ کر بڑا فلاسفر کہلا کر اختران دنیوی گرفتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے ان کو ملزم کرتا رہتا ہے اور اسکے مکروں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ایک دانا انسان اس مسئلہ کو اس طرح بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس چیز کے قویٰ ایک اعلیٰ سے اعلیٰ کام کر سکتے ہیں اور پھر آگے جا کہ بھر جاتے ہیں وہ اعلیٰ کام اس کی پیدائش کی علت غائی سمجھی جاتی ہے۔مثلاً بیل کا کام عملی سے اعلیٰ قلبه رانی یا آب پاشی یا بار برداری ہے اس سے زیادہ اس کی قوتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔سوہیل کی زندگی کا مدعا یہی تین چیزیں ہیں اس سے زیادہ کوئی قوت اس میں پائی نہیں جاتی۔مگر جب ہم انسان کی قوتوں کو ٹٹولتے ہیں کہ اُن میں اعلیٰ سے اعلیٰ کو نسی قوت ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدا ئے اعلی و برتر کی اس میں تلاش پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی محبت میں ایسا گدانہ اور محو ہو کہ اس کا اپنا کچھ بھی نہ ہے سب خدا کا ہو جائے۔وہ کھانے اور سونے وغیرہ طبعی امور میں دوسرے حیوانات کو اپنا شریک غالب رکھتا ہے صنعت کاری میں بعض حیوانات اس سے بہت بڑھے ہوئے ہیں بلکہ شہد کی مکھیاں بھی ہر ایک پھول کا عطر نکال کر ایسا شہر نفیس پیدا کر تی ہیں کہ اب تک اس صنعت میں انسان کو کامیابی نہیں ہوئی۔پس ظاہر ہے کہ انسان کا اعلیٰ کمال خدا تعالیٰ کا وصال ہے۔لہذا اس کی نہ ندگی کا اصل مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے دلی کی کھڑ کی کھلے۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ یہ مدعاکیونکر اور کس طرح حاصل ہو سکتا ہے اور