کتابِ تعلیم — Page 154
۱۵۴ بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں۔اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی اس عادت کا دہراہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے۔لیکن جو لوگ جوگیوں کی طرح نشو و نما پاتے ہیں ان کو اس عادت کے وسیع کرنے کا موقع نہیں ملتا۔اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔ا تفسير سورة البقره از حضرت مسیح موعود (۳۵) ۱۳ جو نفع رساں وجود ہوتے ہیں اسی عمر دراز ہوتی ہے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر درا نہ ہو لیکن بہت کم ہیں وہ لوگ جنہوں نے کبھی اس اصول اور طریق پر غور کی ہو۔جس انسان کی عمر درانہ ہو۔قرآن شریف نے ایک اصول بتایا ہے کہ و اما ما يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ - (الرعد: ١٨) یعنی جو نفع رساں وجود ہوتے ہیں۔ان کی عمر دراز ہوتی ہے۔اللہ تعالے نے ان لوگوں کو درازی عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں کے لئے مفید ہیں۔حالانکہ شریعت کے دو پہلو ہیں۔اول خدا تعالیٰ کی عبادت دوسرے بنی نوع سے ہمدردی لیکن یہاں یہ پہلو اس لئے اختیار کیا ہے کہ کامل عابد وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے پہلے پہلو میں اول مرتبہ خدا تعالیٰ کی محبت اور توحید کا ہے۔اس میں انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کو نفع