کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 153 of 162

کتابِ تعلیم — Page 153

۱۵۳ کامل نہیں ہو سکتا۔اسی لئے آدم کے بعد بھی سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہوئی۔کہ کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے۔یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے۔یعنی ایک یہ تعلق کہ ان میں آسمانی روح پھونکی گئی اور خدا نے ایسا اُن سے اتصال کیا کہ گویا ان میں انتہ آیا۔اور دوسرے یہ کہ بہنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑا جو ھوا اور آدم میں باہمی ہمدردی اور محبت کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا ان میں سب سے زیادہ چمکایا گیا۔اسی تحریک ان کو بیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اول علامت اس بات کی ہے۔کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے۔اور اسی کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ : خَيْرُكُمْ خَيْرُ كُم لِاَهْلِهِ سے یعنی تم میں سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا ہ ہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے۔مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ قلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے۔کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا۔یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے۔اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اس میں مفقود ہے۔اس لئے اگر عصمت اس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں۔لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے۔وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے۔کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے۔اور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ان کی بیویاں آتی ہیں اور