کتاب محفوظ — Page 38
ہے کہ اس رسالہ کے مصنف نے عمداً پورا اقتباس پیش کرنے سے اس لئے گریز کیا ہے کہ ایک فقرے سے جو چاہیں نتیجہ نکالیں اور قاری لا علمی میں ان کے نکالے ہوئے نتیجہ پر ایمان لے آئے۔اب رہا اس اقتباس کا نفسِ مضمون تو یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ خوابوں کی طرح کشفی نظاروں میں بھی بہت سی تعبیر طلب باتیں دکھائی جاتی ہیں جو ظاہری دنیا کے حقیقی واقعات سے مختلف ہوتی ہیں، انہیں جھوٹ قرار دینے والا بھی پاگل ہوگا اور ان پر اعتراض کرنے والا بھی جاہل مطلق۔اب دیکھئے ! حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔ایک رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیاں مبارک آپ کی لحد سے جمع کرتے تھے اور ان میں سے بعض کو اختیار کرتے تھے۔ہیبت کے سبب خواب سے بیدار ہوئے۔" یہ اللہ تعالی کا ان پر خاص احسان تھا کہ یہ رویا مصنف رسالہ جیسے کسی مولوی کے سامنے بیان نہیں فرمائی۔ورنہ قیامت برپا ہو جاتی اس کی بجائے آپ نے خدا ترس، عارف باللہ اور عالم دین محمد بن سیرین سے ڈرتے ڈرتے یہ رویا بیان کی تو دیکھئے کیسی عمدہ روحانی تعبیر انہوں نے فرمائی اور انہوں نے یہ کہہ کر تسلی کہ: پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور جناب کی سنت کی حفاظت میں تو بہت بڑے درجے تک پہنچے گا۔یہاں تک کہ اس میں تیرا تصرف ہو جائے گا کہ صحیح اور غلط میں فرق کرے گا۔؟ (کشف المحجوب مترجم اردو صفحہ ۱۱۶ باب ذکر تبع تابعین) پس ایسی بے شمار مثالیں صالحین امت کی زندگیوں میں ملیں گی۔ہم ان میں سے چند ایک ہدیہ قارئین کر رہے ہیں جو "قرآن مجید میں رو و بدل" کے مصنف کو مانے کو دل نہیں کرتا کیونکہ نہ وہ اس کوچے سے آشنا ہیں اور نہ اس کوچے کی باتیں سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ علیہ کا درج ذیل کشف ملاحظہ فرمائیں۔