کتاب محفوظ — Page 39
حضرت مجدد الف ثانی کو ہمیشہ کعبہ شریفہ کی زیارت کا شوق رہتا تھا کیا مشاہدہ فرماتے ہیں کہ تمام عالم انسان، فرشتے، جن سب کی سب مخلوق نماز میں مشغول ہے اور سجدہ آپ کی طرف کر رہے ہیں۔حضرت اس کیفیت کو دیکھ کر متوجہ ہوئے۔توجہ میں ظاہر ہوا کعبہ معظمہ آپ کی ملاقات کے لئے آیا ہے اور آپ کے وجود باجود کو گھیرے ہوئے ہے۔اس لئے نماز پڑھنے والوں کا سجدہ آپ کی طرف ہوتا ہے۔اسی اثناء میں الہام ہوا کہ تم ہمیشہ کعبہ کے مشتاق تھے ہم نے کعبہ کو تمہاری زیارت کے لیئے بھیج دیا ہے اور تمہاری خانقاہ کی زمین کو بھی کعبہ کا رتبہ دے دیا ہے۔جو نور کعبہ میں تھا اسی نور کو اس جگہ امانت کر دیا ہے۔" اس کے بعد کعبہ شریف نے خانقاہ مبارک میں حلول کیا اور دونوں کی زمین باہم مل جل گئی۔اس زمین کو بیت اللہ کی زمین میں فناء اور بقاء اتم حاصل ہوا۔" ( حدیقہ محمودیه ترجمه روضه قیومیه صفه ۶۸ از حضرت ابوالفیض کمال الدین سرہندی) اب فرمائیے کہ آپ اس عبارت پر کیا کیا عنوانات سجائیں گے اور کیا کیا پھبتیاں کیں گے؟ اور کیسے کیسے اعتراض باندھیں گے؟ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمہ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے:۔ایک روز حضرت قبلہ نے حلقہ نشین علماء کے سامنے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے دونوں پاؤں کے نیچے مصحف حمید یعنی قرآن مجید ہے۔اور میں اس کے اوپر کھڑا ہوا ہوں۔اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔سارے علماء اس خواب کی تعبیر بیان کرنے سے عاجز آگئے۔پس آپ نے مولوی محمد عابد سوکڑی علیہ الرحمتہ کو جو کہ بڑے متبحر اور متدین عالم تھے طلب کیا اور ان کے سامنے خواب بیان کیا مولوی صاحب آداب بجا لائے اور کہا کہ مبارک ہو کیونکہ قرآن شریف عین شریعت ہے اور جناب والا کے دونوں قدم ہر زمانہ میں جادہ شریعت پر مستحکم رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔چنانچہ یہ عمدہ تعبیر ہر کسی کے فکر و عقل کے مطابق تھی۔انڈا