خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 501 of 682

خطبات وقف جدید — Page 501

501 حضرت خلیفہ امسیح الرابع نکتہ ہے کہ قرضہ حسنہ کو دنیاوی رزق تک محدود نہ کر و قرضہ حسنہ کا زیادہ تعلق تمہارے اعمال کی اصلاح سے ہے۔اللہ کے حضور جب تم نمازیں اخلاص سے پڑھتے ہو اللہ کے حضور جب تم روزے اخلاص سے رکھتے ہو، اللہ کے حضور جب دوسری نیکیاں تم اخلاص سے بجالاتے ہو تو یہ قرضہ حسنہ ہے۔کیا اس سے خدا کا نَعُوذُ بِالله مِنْ ذَالِک پیٹ بھرے گا۔تمہارے اعمال کی وہ پھر جزا دے گا اور پیٹ بھرے گا تو تمہارا پیٹ بھرے گا۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نکتے کو جو بیان فرمایا ہے اس میں اعمالِ صالحہ کے ساتھ چندے بھی شامل ہیں وہ بھی تمہیں لوٹائے جائیں گے اور ان کی قبولیت کا فائدہ تمہیں من حیث الجماعت پہنچے گا اور ان چندوں سے جماعت کے نفوس اور اموال میں بہت برکت پڑے گی اور جو تمہاری تمنائیں ہیں کہ تم دنیا میں آخری فتح حاصل کرو یہ سارے نظام اس فتح کو قریب تر کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں پس قرضہ حسنہ کا مضمون بہت وسیع ہو جاتا ہے اور اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اس پر غور کرنا چاہئے۔آگے فرماتے ہیں کہ یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے اس پر غور کرنے سے اس کا مفہوم صاف سمجھ آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی ، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فرومومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔پس خدا پر یہ الزام حد سے بڑھی ہوئی جہالت ہے۔وہ رب جو بغیر دنیا کی التجاؤں کے، بغیر اس کے مانگنے کے، بغیر اس کی ذات پر یقین کے جو کچھ کھا رہی ہے وہ دنیا اس کے ہاتھوں سے کھا رہی ہے۔تم اتنے بیوقوف لوگ ہو کہ چھوٹی سی ضرورت کے بعد سمجھتے ہو کہ تم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔اس خدا کو تمہاری حاجت کیا ہو سکتی ہے جو ساری کائنات کا رب ہے۔ادنیٰ سے ادنی جانوروں کو رزق عطا فرمارہا ہے۔ان انسانوں کو رزق عطا فرما رہا ہے جو اس کے دین کے مخالف ہیں ، ان انسانوں کو رزق عطا فرما رہا ہے جنھوں نے خدا کے بیٹے بنارکھے ہیں ان کو رزق عطا فرمارہا ہے جو اس کی ہستی کا انکار کر رہے ہیں۔یہ عالمی رحمت اور ربوبیت کا نزول تمہیں اس آیت کے سمجھنے میں مد ہونا چاہئے نہ کہ اس کے برعکس ترجمہ کرو۔اس لئے قرضہ حسنہ کا ہر وہ معنی جو خدا کی اس عالمی ربوبیت کے خلاف کیا جاتا ہے وہ مردود معنی ہے اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ (الزلزال:8 ) یعنی ایک ذرہ برابر بھی تم کوئی کام کرو جو اچھا ہو اللہ کی اس پر نظر ہوتی ہے اور وہ اسے ضرور بڑھاتا ہے پس ایسے خدا پر اس آیت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں اعتراض جڑنا اپنی ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔اب جو تھوڑ اسا وقت رہ گیا ہے اس میں میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں اور چند