خطبات وقف جدید — Page 500
500 حضرت خلیفة المسیح الرابع ایک ایسی تجارت عطا فرما دی ہے کہ تم اس کو قرضہ دو اور قرضہ حسنہ ہوا کرتا ہے کوئی سود کی شرط نہیں ہوا کرتی جب دو تو اس نیت سے دو کہ اللہ ! ہماری خوشی ہے تو پورا فرما۔ہم چاہتے ہیں کہ جو رزق تو نے عطا فر مایا ہے کچھ تیرے قدموں میں ڈال دیں اور اس سے ہمیں بے انتہا طمانیت نصیب ہوگی اگر تو قبول فرما لے۔یہ جذبہ ہے جس کے ساتھ قرضہ حسنہ دیا جاتا ہے لیکن جس کو آپ دیتے ہیں اس جذبے کے خلوص کے مطابق وہ جوابی کاروائی کرتا ہے۔جتنا سچا یہ جذبہ ہو اس کی قبولیت اس مال کو بڑھا کر واپس کرنے کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے پس جن لوگوں کا تھوڑ دیا بھی بہت برکتیں حاصل کر لیتا ہے۔یہ ان کے خلوص کی طرف اشارہ ہے۔جن لوگوں کا زیادہ دیا بھی اتنی برکتیں حاصل نہیں کرتا یہ ان کے خلوص کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ تعالی بہر حال ان دونوں پر نظر رکھتا ہے اور جتنا چاہے بڑھا دیتا ہے۔بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں کہ اس طرح بڑھاتا ہے ، اس طرح بڑھاتا ہے اس طرح بڑھاتا ہے لیکن آخر پر یہی فرماتا ہے کہ جس کے لئے چاہے اس سے بھی زیادہ ، اور زیادہ کی تعیین نہیں، یعنی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ آپ شمار نہیں کر سکتے لیکن جتنا زیادہ ہوتا ہے اللہ کی راہ میں پیش کرنے کی خواہش بھی اسی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے وہ زیادہ جس کے بعد خدا کی خاطر خرچ کرنے کی خواہش مٹ جائے وہ زیادہ ایک بُری آزمائش ہے دعا کریں اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو اور مجھے ایسی بُری آزمائش میں نہ ڈالے۔الحکم جلد 6 نمبر 17 مورخہ ماہ مئی 1903 سے یہ حوالہ لیا گیا تھا۔اب ایک اور حوالہ ہے الحکم جلد 5 صفحہ 21 مورخہ 10 جون 1901 سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایک نادان کہتا ہے مَنُ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ عطا کرے، کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں یعنی دشمن اسلام اکثر ، اور بعض مسلمان نادان بھی یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ دیکھو کیسا اعلان ہے مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَنا اللہ کوئی بھوکا ہے جسے قرض کی ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے۔یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے اس کے ساتھ اخلاص اپنی طرف سے لگا لیتا ہے یہاں قرض سے مراد یہ ہے ”کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمالِ صالحہ دے اللہ تعالیٰ ان کی جزا اس سے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔اب اخلاص کا رد کرنے کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت نکتے کی بات فرمائی ہے۔فرمایا قرضہ حسنہ کو مال سے محدود کیوں کرتے ہو قرضِ حسنہ کا اکثر حصہ تو تمہارے اپنے اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔تم نیک اعمال اختیار کرو تو اللہ کا پیٹ بھر جائیگا کونسی بھوک مرے گی۔اس کی لیکن وہ اس کی جزاء تمہیں ایسی دے گا کہ تمہاری بھوکیں مٹ جائیں گی۔پس یہ نکتہ بہت ہی عمدہ اور بہت ہی عظیم