خطبات وقف جدید — Page 480
480 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع مضمون بیان فرمایا ہے جو نبوت سے نیچے سب سے اعلیٰ منصب کا وعدہ کر رہا ہے۔چنانچہ فرمایا وَالَّذِينَ ا مَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِہ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے رسولوں پر یعنی یہی لوگ ہیں جن کی ایک مزید تعریف یہ فرما دی گئی ہے کہ ان کا خرچ محض اپنی ذاتی کرامت سے نہیں ہے بلکہ اللہ اور رسول پر ایمان کے نتیجے میں یہ پیدا ہوا ہے۔فرمایا هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَ الشُّهَدَاءُ اس معیار کے لوگ وہ ہیں جن کو ہم صدیق شمار فرمائیں گے۔اور اس سے بڑا اجر کریم اور کیا ہوسکتا ہے پھر کہ صدیقیت کا مقام پا جائیں اور صدیقیت کا مقام خدا کی راہ میں خرچ بڑھانے کے نتیجے میں اور پھر لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمْ۔پیچھے جب تحریک جدید کے سال کا آغاز کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم کی ایک آیت آپ کے سامنے رکھی تھی اس میں بھی نور کا وعدہ تھا اس آیت میں بھی نور کا وعدہ ہے کہ انھیں صد یقیت کا مقام بھی ملے گا ،شہادت کا مقام بھی ملے گا عِندَ رَبِّهِمُ اپنے رب کے حضور۔لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمُ ان کے لئے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی ہے۔اب ان کا اجر اور ان کا نور سے کیا مراد ہے؟ یہ مختصر بیان کر کے میں وقف جدید کی طرف واپس لوٹوں گا۔اجر جو ہے وہ تو قربانیوں سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔جس شخص میں جتنی توفیق تھی اس نے اس حد تک قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شرط کے ساتھ کہ میں بڑھاؤں گا اور تمہاری توقعات سے بڑھ کر دوں گا اس کو پورا فر ما دیا یہ تو اجر ہو گیا لیکن نُورُ هُمُ ان کا نور کیا ہے؟ دراصل ان کا نور ہی ہے جوا جر کا فیصلہ کرتا ہے اور نور سے مراد وہ دل کی پاکیزگی اور صفائی ہے جس کے ساتھ انسان ایک قربانی خدا کے حضور پیش کرتا ہے اور اجر کریم کا اس سے گہرا تعلق ہے۔جتنا وہ نور بلند ہوگا ، روشن تر ہوگا، خدا کے حضور خالص ہو کر چمکے گا اسی حد تک اس کے اجر کو بڑھا دیا جائے گا اور اجر کو اعزاز بخشا جائے گا۔پس صدیقیت کا تعلق نور سے ہے اور شہادت کا بھی تعلق نور سے ہے۔صالحیت کا اس تفصیل سے تعلق نہیں ہے نور کے ساتھ جیسا ان دو مراتب کا ہے۔اس لئے دیکھیں یہاں صرف دو ہی مراتب کا ذکر ہے۔صدیقیت کا اور شہادت کا اور نہ نبوت کا ہے اور نہ صالحیت کا ہے۔تو صالحیت جو عام روز مرہ کی نیکیاں ہیں انسان کو اس بلند مقام تک نہیں پہنچایا کرتیں۔جس کی پہلی سیڑھی شہادت ہے اور دوسری سیڑھی صدیقیت ہے اور چونکہ نبوت بالعموم اس طرح عطا نہیں ہوا کرتی وہ منصب ہی بالکل الگ ہے اس لئے جہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کی جزا کا تعلق ہے وہاں نبوت کا ذکر سر فہرست فرما دیا لیکن روز مرہ کی مومن کی قربانیوں کا ذکر ہے۔اس میں جو اعلیٰ درجے کی قربانیاں کرنے والے ہیں ان کو دو انعامات کا وعدہ فرمایا کہ تم میں صدیق بھی پیدا ہونگے اور شہید بھی پیدا ہوں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا احسان ہوگاوَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِا يَتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ان کے لئے تو جہنم کے عذاب کے سوا اور