خطبات وقف جدید — Page 479
479 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ترجمہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور مختصراً ان مضامین کو آپ کے سامنے کھولنے کی کوشش کروں گا۔اِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَتِ یقیناً صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا یعنی وہ لوگ جن کے صدقے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی خاطر اللہ کو قرضہ حسنہ کے طور پر کچھ دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا ی ضعَفُ لَهُمُ ان کے لئے بڑھایا جائے گا کیا بڑھایا جائے گا یہ بات مہم چھوڑ دی گئی ہے۔اور یہ مہم چھوڑنا دو طریق پر ہوا کرتا ہے۔بعض لوگ جن کی نیتیں خراب ہوں وہ مجمل وعدہ کر دیا کرتے ہیں مبہم سا وعدہ کر لیتے ہیں تا کہ ہم پھر پکڑے نہ جائیں۔جب نہ پورا کرنے کو دل چاہے تو کہتے ہیں ہم نے یہی کہا تھا نہ کہ کچھ دیں گے تو کچھ دے دیں گے ، یہ کب کہا تھا کہ کب دیں گے اس لئے کوئی مطالبہ نہ کرو ہم سے۔مگر جو کریم ہو جو بے انتہا احسان کرنے والا ہو وہ جب مجمل وعدہ کرتا ہے تو مراد یہ ہے کہ اس سے بہت زیادہ دیں گے جو تم سمجھ رہے ہو اس لئے معین کر کے ہم اپنے ہاتھ نہیں باندھتے۔حسب حالات تمہارے اخلاص کے تقاضوں کے مطابق جتنا چاہیں گے اتنا دیتے چلے جائیں گے مگر جو بھی دیں گے تمہاری تو قعات سے بڑھ کر دیں گے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں میں یہ چیز شامل ہوتی ہے اس کے سوا ایک بھی خدا کا وعدہ نہیں ملتا جو محسنین سے یا اس کی راہ میں خدمت کرنے والوں سے کیا گیا ہو اور اس میں ان توقعات سے بڑھ کر دینے کا مضمون شامل نہ ہو۔چنانچہ فرمایا ضعَفُ لَهُمُ ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا وَ لَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ اور ان کے لئے معزز اجر بھی ہوگا یعنی اجر کریم سے مراد جیسا کہ ایک اور آیت کے حوالے سے میں نے بیان کیا تھا ان کو اموال ہی میں برکت نہیں دی جائے گی ، ان کی عزتوں میں بھی برکت دی جائے گی ، ان کو معزز بنایا جائے گا اور کریم سے مراد خی بھی ہے وہ شخص جو اعلیٰ اقدار کی خاطر دل کھول کے خرچ کرتا ہے۔تو اجر کریم خدا سے متوقع ہے اور وہ اجر کریم ان کو بھی کریم بنانے والا ہوگا۔وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُلِةٍ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ۔(الحدید: 20) اب یہاں لفظ صدیق کا استعمال اتفاقی نہیں ہے۔دیکھیں نبوت کا یہاں ذکر نہیں ملتا۔صدیق اور اس کے بعد شہداء کا ذکر فرمایا اور مصدقین اور مصدقات کا مادہ وہی ہے جو صدیق کا ہے اور مصدقات اور مصدقین میں جو باب استعمال فرمایا گیا ہے اس میں کچھ مبالغے کے معنے ضرور پائے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو بکثرت صدقہ دینے والے ہیں، جو بکثرت صدقہ دینے والیاں ہیں وہ چونکہ اپنے نیک اعمال میں اور خدا کی خاطر دل کھولنے میں ایک نمایاں منصب پاگئے ، نمایاں صورت اختیار کر گئے اس لئے اللہ کی طرف سے بھی ان سے نمایاں اجر کا وعدہ ہونا چاہئے تھا۔پس جہاں اجر کریم فرما دیا اس سے اگلی آیت ہی میں ایک ایسا