خطبات وقف جدید — Page 481
کچھ نہیں ہے۔481 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع مطر پس مالی قربانی کے جو مرتے ہیں ان کو سمجھے بغیر حقیقت میں مالی قربانی کا جذ بہ صیح طریق پر بیدار ہو ہی نہیں سکتا اور ان مراتب کو سمجھنے کے نتیجے میں مالی قربانی میں جو احتیاطیں ضروری ہیں ان سے بھی انسان واقف ہو جاتا ہے۔کیونکہ بسا اوقات مالی قربانی دیکھا دیکھی سے بھی ہو جاتی ہے۔مالی قربانی میں مسابقت کا جائز شوق بھی شامل ہو جاتا ہے۔وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اگر نظران بلند مقامات کی طرف اور مراتب کی طرف ہو جن کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے تو مالی قربانی میں ایک نئی چلا پیدا ہو جائے گی اور مالی قربانی ہمیشہ محفوظ رہے گی۔پس اس پہلو سے وقف جدید کے ذکر میں جب میں بعض مثالیں بھی دوں گا۔بعض عظیم الشان قربانیوں کا ذکر بھی کروں گا تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ اپنی قربانیوں کو محض اس غرض سے بڑھا ئیں کہ آپ کا ذکر چلے۔اس غرض سے بڑھا ئیں کہ آپ میں مسابقت کی وہ روح پیدا ہو جو آپ کے لئے صلح نظر بنادی گئی ہے، جو آپ کا ماٹو قرار دے دیا گیا ہے جیسا کہ قرآنِ کریم فرماتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہو اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ یہ جو آیت تھی یہ میرے ذہن میں تھی ، وہ دوسری آیت کا بھی اس مضمون سے تعلق ہے مگر میرے ذہن میں جو آیت تھی جو میں ڈھونڈ رہا تھا وہ یہ دوسری آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِكُلِ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ہر ایک کے لئے ایک نصب العین ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اس کے لئے وہ پابند ہو جاتا ہے اس کے لئے وہ اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے وہ قبلہ بن جاتا ہے جس کی طرف وہ منہ پھیر لیتا ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ تمہارا نصب العین جس کی طرف تم نے اپنے چہرے پھیر نے ہیں اپنی تو جہات کو مرکوز کرنا ہے وہ ہے ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھو۔پس اس جذبے کے ساتھ قرآنِ کریم نے ہمارا مقصد ، ہمارا نصب العین ہی نیکیوں میں آگے بڑھنا قرار دے دیا ہے۔اگر ایک انسان اپنے بھائی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہرگز ریا کاری نہیں کہا جاسکتا، اسے ہرگز معمولی بات سمجھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔مگر اس اعلیٰ نیت کے باوجود اس سے بھی بلند تر نیتیں ہیں اور ان میں سے اول یہ ہے کہ اللہ کا تصور ذہن پر حاوی ہو اور کوئی بھی چندہ ایسا ادا نہ کیا جائے جس میں خدا کی محبت کی آمیزش نہ شامل ہو۔اگر خدا کی محبت کی آمیزش شامل ہو جائے تو سب کچھ مل گیا پھر آگے بڑھنے کی توفیق بھی ملتی ہے اور غیر معمولی طور پر ملتی ہے اور اس نصب العین سے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ اس کو بڑھانے والی چیز ہے اور نیکیوں کو نور بنا دینے والا نسخہ یہی ہے کہ ہر نیکی کی نیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اثر انداز ہو یعنی نیکیاں دراصل اللہ کی محبت سے پھوٹیں۔وہ چیزیں جو نور سے پھوٹتی ہیں وہ نور ہی رہیں گی اور یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ کثیف ہو جائیں۔پس اس