خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 341 of 682

خطبات وقف جدید — Page 341

341 حضرت خلیفہ المسیح الرابع برسا کہ ہماری تھوڑی قربانیاں بھی بہت زیادہ نشو و نما پا جائیں اور ہر زمانے میں نشو و نما پاتی رہیں۔یہ مضمون جو ہے اس کو پھر خدا تعالیٰ اور بڑھاتا ہے فرماتا ہے کہ عام قانون قدرت میں جب بہت دیا جائے تو ایک دانہ سات بالیوں میں تبدیل ہو سکتا ہے اور ہر بالی میں سوسو دانے ہوں تو ایک دانہ سات سو گنا ترقی کر سکتا ہے لیکن فرمایا کہ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی یہ تو تمہارے اخلاص کے کمال اور خدا تعالیٰ کے حضور اس اخلاص کو قبول کئے جانے کا مضمون ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل کا مضمون (جس کا قربانیوں سے کوئی تعلق نہیں یعنی براہ راست تعلق نہیں وہ ) اس کے علاوہ ہے۔فرمایا اگر تم بہترین رنگ میں خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرو گے تو عام قانون جو روحانی دنیا میں چل رہا ہے جس کا اطلاق بعض شکلوں میں مادی دنیا میں بھی تم ہوتا ہوا دیکھتے ہو وہ یہ ہے کہ ایک قربانی سات سو گنا زیادہ پھل پیدا کر سکتی ہے لیکن کچھا ایسے بھی لوگ ہیں جن کی خاطر يُضعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ کے مطابق خدا الا محدود طور پر ان قربانیوں کے پھلوں کو بڑھا بھی سکتا ہے۔جس کے لئے وہ چاہے، جس کیلئے وہ فیصلہ کرے وہ ان قوانین کی حد سے بالا سمجھا جائیگا اور ان حدود کے دائرہ کے اندر اس سے سلوک نہیں کیا جائے گا بلکہ لامحدود سلوک کیا جائے گا تو ہمارا جس خدا سے تعلق ہے اس کے ساتھ یہ جو حسابی معاملات ہیں یہ ہمیں درست کرنے ہونگے اور بے حساب کی توقع اس سے ہم رکھیں تو وہ بے حساب دے سکتا ہے۔پس جہاں تک انسان کا تعلق ہے اسے اپنا حساب ضرور درست کرنا چاہیے اور اپنا حساب درست کرنے کے بعد اس کیساتھ خدا پر توکل رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو حساب کے مطابق بہت دے یا بے حساب عطا کرے۔اس بے حساب عطا کرنے کے مضمون میں بظاہر کوئی منطق نہیں۔وہ کون لوگ ہیں جن کیساتھ خدا تعالیٰ بے حساب سلوک فرماتا ہے؟ اس مضمون کو اگر آپ سمجھ لیں تو پھر ہم میں سے ہر شخص اللہ تعالیٰ سے لامحدود عنایات کی توقع رکھ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ہاں احسان میں بھی ایک عدل پایا جاتا ہے اور کلیۂ بے وجہ اس کا کوئی سلوک بھی نہیں ہوتا۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے بے حساب عطا کرنے کا مضمون اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ اپنی حد تک پہنچ جائیں اور اس سے آگے بڑھنا آپ کے لئے اس لئے ممکن نہ ہو کہ آپ کی استعدادوں سے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے وہاں سے فضل کا مضمون شروع ہوتا ہے اور وہاں سے بے حساب کا مضمون شروع ہوتا ہے اس لئے میں نے کہا تھا کہ آپ اپنا حساب پورا کریں جتنی توفیق ہے جتنی استطاعت ہے وہ سب کچھ اگر آپ خدا کی راہ میں پیش کر دیں اور ایک ایسا مقام دیکھیں جہاں اس سے آگے آپ بڑھ نہیں سکتے وہاں پھر آپ کی نیکیوں کی حسرتیں باقی رہ جائیں گی وہاں خواہشیں ہیں جو دل میں کلبلا ئیں گی اور بے چین کریں گی کہ کاش ہم اس سے بھی زیادہ کر سکتے۔اس حد سے آگے پھر آپ کے عمل کی حد ختم ہو جاتی ہے اور