خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 342 of 682

خطبات وقف جدید — Page 342

خدا کے لامحدود فضلوں کی حد شروع ہو جاتی ہے۔342 حضرت خلیفہ امسیح الرابع حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ سے اللہ تعالیٰ نے جو لا محدود فضلوں کا سلوک فرمایا ہے ایک جاہل اعلية دنیا دار یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی مرضی تھی اس نے جس طرح چاہا انکو بڑھا دیا اور اس میں اس کا ARBITRARY فیصلہ ہے یعنی بغیر کسی RY ARBITRARY کے، بغیر کسی وجہ کے، دنیا کے لحاظ سے یہی بات درست نظر آتی ہے مگر امر واقعہ اس سے مختلف ہے۔خدا تعالیٰ کے ہر احسان کے اندر عدل کا مضمون پایا جاتا ہے اور اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے یا آپ کی غلامی میں کسی اور شخص سے جب آپ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا لامحدود سلوک دیکھتے ہیں تو یقین کریں کہ اس شخص کی قربانیوں کی ایک ایسی حد پہنچی تھی جس سے آگے اس کی تمنا ئیں رہ گئی تھیں اور حسرتیں رہ گئی تھیں اور خدا نے اس کو جو استعداد میں عطا کی تھیں اُن میں توفیق نہیں تھی کہ اس سے آگے بڑھ سکیں تب خدا کے فضل نے وہاں سے اس کا ہاتھ پکڑا ہے۔اور پھر اسکولا محدود فضلوں کی دنیا میں پہنچا دیا ہے۔معراج محمد مصطفی ﷺ میں ہمیں یہی مضمون ملتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بشریت کی حدود کے آخری مقام تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اس سے بالا بشریت کا کوئی مقام نہیں ہے جس حد تک ممکن تھا سب کچھ خدا کی راہ میں پیش کر دیا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد پھر خدا باقی رہ جاتا ہے اور بشریت کی تمام طاقتیں ختم ہو جاتی اور کوتاہ ہو جاتی ہیں مگر وہاں آپ ٹھہرے نہیں ہیں وہاں تعلق باللہ کا ایک نیا مضمون شروع ہوا ہے جولا محدود ہے۔اس تک عام انسان کی نظر اور اس کا فہم اور اس کا ادراک پہنچ ہی نہیں سکتے لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان کو کسی نہ کسی پہلو سے یہ تجربے ہو سکتے ہیں اس لئے جماعت احمدیہ کو اپنے ایسے خدا سے تعلق جوڑتے ہوئے اس تعلق کو محدود نہیں رکھنا چاہیے۔بڑا ظلم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تو لا محدود فضل کرنے والا ہو اور ہم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اس کے فضلوں کے ہاتھ روک رہے ہوں اور ان کو محدود کر رہے ہوں اس لئے اب یہ دعا کرنی چاہیے کہ جو کوتا ہیاں ہم سے ہوگئیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے اوپرستاری کا پردہ ڈال دے اور ہماری غفلتوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے نیکیوں کے طور پر شمار کر لے اور ہماری استعدادوں کو بھی بڑھائے اور ہمیں اپنی استعدادوں تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے یہاں تک کہ نیکی کے ہر میدان میں ہم اس کنارے تک پہنچ جائیں جس سے آگے ہماری بشریت کی حد کے لحاظ سے بڑھناممکن نہ رہے اور پھر ہم خدا کے لا انتہا فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں اور آئندہ صدیاں ہماری ان قربانیوں کے لا انتہا پھل کھاتی چلی جائیں۔اس بات کو یا درکھیں کہ ہم نے پہلوں کی محنت کے پھل کھائے ہیں اس لئے ان کو بھی اپنی دعاؤں میں بھولیں نہیں اور ہماری محنت کے پھل آئندہ نسلیں کھائیں گی اور اگر آپ پہلی نسلوں سے یہ سلوک کریں گے کہ ان