خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 340 of 682

خطبات وقف جدید — Page 340

340 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فیض پائے گی اور اگر ہم دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتا ہیوں اور غفلتوں کی معافی چاہتے ہوئے ،استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتے رہیں گے کہ جو کچھ ہم نے خدا کے حضور قربانیوں کی صورت میں پیش کیا ہے ہم جانتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ کر سکتے تھے یہ تو بہت تھوڑا ہے جو ہم نے پیش کیا ہے لیکن اے خدا تو بڑھانے والا ہے، تو تھوڑے کو بہت کرنے والا ہے، تیری طاقتوں کی کوئی حد نہیں ہے کوئی شمار نہیں ہے اس لئے قطع نظر اس کے کہ ہم نے تیری راہ میں کیا پیش کیا تو اسے بہت بڑھا دے۔اس مضمون کو سمجھنا ہو تو پھر اسی مثال کی طرف واپس لوٹتے ہیں جو میں نے پہلے بیان کی ہے ہر زمیندار جو دانے مٹی میں ملاتا ہے اس کے ساتھ مٹی ایک جیسا سلوک نہیں کیا کرتی۔حالات مختلف ہیں زمینیں مختلف ہیں چنانچہ قرآن کریم نے اس مثال کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض ایسی قربانیاں ہیں جو خالصہ للہ کی جاتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو دکھاوے کی خاطر کی جاتی ہیں۔جو خالصہ اللہ کی جاتی ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے زمیندار کا دانہ کسی ایسی زرخیز زمین میں پڑے جو غیر معمولی طور پر اس دانے کو بڑھانے کی طاقت رکھتی ہو۔اگر تیز بارش ہو تب بھی وہ زمین بڑی کثرت کے ساتھ اس پیج کو اُ گائے اور نشو و نما عطا کرے اور اگر بارش نہ بھی ہو تو رات کی شبنم سے بھی وہ استفادہ کر سکے اور اسی تھوڑی سی شبنم کے ذریعہ ہی وہ اس پیج کو بڑھا دے اور بعض قربانیاں ایسی ہیں جو سطحی ہوا کرتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایسی سخت چٹان پر وہ بیج پڑے جس کی سطح پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہے وہ تھوڑی دیر کے لئے روئیدگی ظاہر کرتی ہے سبزہ دکھائی دیتا ہے لیکن جب بھی بارش آتی ہے وہ سب کچھ کو بہالے جاتی ہے۔پھر اسی مثال میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اپنی قربانیوں کا تتبع کرتے ہیں ان کے پیچھے چلتے ہیں اور ان کی آبیاری کرتے ہیں ان کو بہت زیادہ دیا جاتا ہے بہ نسبت ان زمینداروں کے جو بیچ پھینک کر خواہ اچھی زمین پر پھینکا ہو پھر اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔تو صرف قربانی کر دینا کافی نہیں ہے۔قربانی کیسی ہے اور کس حد تک وہ نشو ونما پانے کی توفیق رکھتی ہے۔یہ ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے اس لئے دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے۔وہ حال کا بھی خدا ہے مستقبل کا بھی ہے اور ماضی کا بھی ہے، یہ التجا کرنی چاہیے کہ اگر ہماری قربانیوں میں، ہماری نیتوں میں کچھ فتور بھی رہ گیا ہو اور خالصہ تیرے لئے نہ بھی کی گئیں ہوں تو آج ہم التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بخش دے۔ہمیں معاف فرما ہماری قربانیوں کو کامل سچائی عطا کر، تو جیسے مستقبل کا خدا ہے ویسے ماضی کا بھی ہے تو زمانے کا مالک ہے تو چاہے تو ہماری گزری ہوئی کوتا ہیوں کی بھی پردہ پوشی فرما سکتا ہے اور ان کوتاہیوں کی زد سے ہماری قربانیوں کو بچا سکتا ہے اسلئے آئندہ کے لئے ہمیں خلوص کی توفیق عطا فرما اور سابقہ کوتاہیوں کو بخش دے اور پھر فضلوں کی ایسی موسلا دھار بارش