خطبات وقف جدید — Page 261
261 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کر دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ایک بہترین انتخاب تھا۔پس یہ براہ راست ہمارے محسن بنے جبکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پیغام کی تائید کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے لیکن پیچھے نہیں ہے۔اور تمام دنیا کو دیکھتے دیکھتے چند سالوں میں نور اسلام سے منور کر دیا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:۔إِنِّي دَعَوْتُ لِلْعَرَبِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُؤْمِنًا مُوقِنًا بِكَ مُصَدِّقًا بِلِقَاءِ كَ فَاغْفِرْ لَهُ أَيَّامَ حَيَاتِهِ وَهِيَ دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِنَّ لِوَآءَ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بيَدِى وَإِنَّ أَقْرَبَ الْخَلْقِ مِنْ لِوَانِى يَوْمَئِذٍ اَلْعَرَبُ۔( کنز العمال جلد 6 صفحه 204) فرمایا: میں نے عربوں کیلئے دعا کی اور عرض کیا اے میرے اللہ ! جوان (عربوں ) میں سے تیرے حضور حاضر ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہے تیری لقاء کو مانتا ہے تو تو تمام عمر اس سے بخشش کا سلوک فرما۔اور یہی دعا حضرت ابراہیم نے کی ، اسماعیل نے کی اور حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔اور تمام مخلوقات میں سے میرے جھنڈے کے قریب ترین اس روز عرب ہوں گے۔پھر فرمایا: الْعَرَبُ نُورُ اللهِ فِى الْاَرْضِ وَفَنَاءُ هُمْ ظُلُمَةٌ فَإِذَا فَنِيَتِ الْعَرَبُ أَظْلِمَتِ الْأَرْضُ وَ۔ذَهَبَ النُّورُ (کنز العمال جلد6 صفحه 204 ) عرب اللہ تعالیٰ کا نور ہیں اس زمین میں اور ان کی ہلاکت تاریکی کا باعث ہوگی۔جب عرب ہلاک ہوں گے تو زمین تاریک ہو جائے گی۔اور نور جاتا رہے گا۔پس معنوی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو ہلاکتوں سے بچائے اور ظاہری اور جسمانی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو ہلاکت سے بچائے۔الله پھر حضوراکرم ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی: احِبُّوا الْعَرَبَ بِثَلاثِ لِأَنِّى عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ۔(کنز العمال جلد 6 صفحه 204) عربوں سے تین وجوہ سے محبت کرو۔اول یہ کہ میں عربی ہوں۔دوم یہ کہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا۔سوم یہ کہ اہل جنت کی زبان بھی عربی ہوگی۔پھر آنحضور ﷺ فرماتے ہیں: احِبُّوا الْعَرَبَ وَ بَقَاءَ هُمْ فَإِنَّ بَقَاءَ هُمْ نُورٌ فِي الْإِسْلَامِ وَ إِنَّ فَنَانَهُمْ ظُلُمَةٌ فِي