خطبات وقف جدید — Page 262
الْإِسْلَام 262 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ( كنزا لعمال جلد 6 صفحه 203) فرمایا عربوں سے بہت محبت کرو۔اور ان کی بقاء چا ہو۔یعنی کوشش کرو کہ وہ ہر حال میں باقی رہیں اور زندہ رہیں اور دنیا میں ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے رہیں کیونکہ اگر یہ قوم باقی رہے گی تو اسلام کا نور باقی رہے گا اور ان کے فناء ہونے سے اسلام میں تاریکی آجائے گی۔پھر فرمایا: حُبُّ الْعَرَبِ اِيْمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ (كنز العمال جلد 12 صفحه44) عربوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے، ایمان کی علامت ہے اور یہ بات نفاق کی علامت ہے کہ عربوں سے بغض کیا جائے۔جس کے دل میں منافقت کی آگ ہو صرف وہی عربوں سے دشمنی یا بغض رکھ سکتا ہے۔گی۔پھر آنحضور اللہ نے فرمایا: مَنْ غَشَ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلُ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلُهُ مَوَدَّتِي۔تر مندی ابواب المناقب باب مناقب في فضل العرب صفحہ 630) جس نے عربوں کو دھوکا دیا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا۔اور اسکو میری محبت نہیں پہنچے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے آقا کی پیروی میں عربوں سے غیر معمولی محبت کی اور محبت کی تعلیم دی اور ان کیلئے بے انتہا دعائیں کیں۔چنانچہ میں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریریں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔تا کہ آپ کے دل میں بھی وہی جذبہ جوش مارے۔اسی طرح دل عربوں کی محبت میں گرمائے جائیں۔اور اسی طرح عاجزی اور انکسار اور بے حد خلوص اور جذبہ کے ساتھ آپ اپنے عرب بھائیوں کو دعاؤں میں یا درکھیں۔پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عربوں میں بعض لوگ بہت ہی نیک دل اور پاک فطرت اور صلحاء ایسے ہیں جنہوں نے مخالف حالات کے باوجوداسلام قبول کیا ہے۔اور وہ صدق وصفا میں بہت بڑھ گئے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔۔۔صَرَفَ إِلَيَّ نَفَرًا مِّنَ الْعَرَبِ الْعُرُبَاءِ فَبَايَعُونِي بِالصِّدْقِ وَ الصَّفَاءِ وَرَأَيْتُ فِيهِـ نُورَ الْإِخْلَاصِ وَسِمَتَ الصِّدْقِ وَحَقِيْقَةً جَامِعَةً لِانْوَاعِ السَّعَادَةِ وَكَانُوا مُتَّصِفِيْنَ بِحُسْنِ الْمَعْرِفَةِ بَلْ بَعْضُهُمُ كَانُوا فَائِضِينَ فِى الْعِلْمِ وَالاَ دَبِ وَفِي الْقَوْمِ مِنَ الْمَشْهُورِينَ