خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 260 of 682

خطبات وقف جدید — Page 260

260 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ہمیں اس علاقے میں بھجوایا جائے۔ایک روچلی ہے امید ہے کہ اگر اسے اور تقویت دی جائے تو بہت جلد سارے ہندو علاقے میں اسلام پھیل سکتا ہے۔تیسری بات جو سب سے اہم ہے وہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کل عالم اسلام پر ایک بہت بڑا ابتلا ء آیا ہوا ہے اور خاص طور پر ہمارے عرب ممالک بڑے دکھ کا شکار ہیں۔ان پر ہر طرف سے مظالم توڑے جارہے ہیں۔اور کوشش کی جارہی ہے کہ عربوں کو دنیا سے بالکل نیست و نابود کر دیا جائے۔اسرائیل کیا اور مغربی طاقتیں کیا اور مشرقی طاقتیں کیا ، سب کی سب عربوں کو مظالم کا نشانہ بنارہی ہیں اور ان سے کھیل کھیل رہی ہیں۔ہتھیار اس غرض سے دیئے جارہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے اس کے مقابل پر دنیا کی کوئی طاقت بھی سنجیدگی سے عربوں کی مدد کرنے کیلئے آمادہ ہی نہیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کے فیصلے ہیں کہ عربوں کو ایسی حالت میں رکھا جائے کہ ان کا تیل اپنے بچے کھچے ہتھیاروں کے بدلے لوٹ لیا جائے۔ان کی دوستیں سمیٹ لی جائیں۔اور ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا جائے۔غرض انتہائی تکلیف دہ اور دکھ کا حال ہے جو ایک مسلمان کیلئے نا قابل برداشت ہے۔عت احمدیہ کو میں آج خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ بے حد درد اور کرب کے ساتھ اور باقاعدگی کے ساتھ اپنے عرب بھائیوں کیلئے دعائیں کریں ! یعنی ایک دفعہ کی یا دو دفعہ کی دعا کا سوال نہیں۔بلکہ اس دعا کو التزام کیسا تھ جاری رکھیں۔ہر نماز میں ہر تہجد کی نماز میں جہاں تک توفیق ملے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عرب قوم پر فضل فرمائے اور رحم فرمائے اور دکھوں اور مصیبتوں سے نجات بخشے اور ہدایت دے اور اگر ان کے کسی فعل سے خدا ناراض ہے تو ان کی مغفرت فرمائے اور عفو کا سلوک کرے اور وہ نور جو پہلے ان سے پھوٹا تھا وہ دوبارہ ان میں بڑی شدت کیسا تھ اور بڑی قوت کے ساتھ داخل ہو۔نور مصطفوی کو ساری دنیا میں پھیلانے کا موجب بنیں اور جس طرح پہلے انہوں نے دین اسلام کے لئے صف اول کی قربانی دی تھی آئندہ بھی ان کو دین اسلام کی صف اول میں ہی اللہ تعالیٰ رکھے ، پیچھے رہ جانے والوں میں شامل نہ کرے۔آنحضرت ﷺ کا عربوں میں سے ہونا عربوں کا ساری دنیا پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔الله صلى الله رچہ بالا رادہ تو نہیں لیکن عرب قوم کا احسان ہے کہ اس میں حضرت محمد مصطفی امیہ ظاہر ہوئے اور پھر اس قوم نے اسلام کیلئے حیرت انگیز قربانی کی ہے جس کی دنیا میں کوئی نظیر نظر نہیں آتی۔غرض آنحضرت ﷺ کی بعثت عربوں میں سے اگر چہ بالا رادہ عرب کا احسان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ضرور کوئی نیکی اور غیر معمولی خوبی دیکھی تھی جو سید الانبیاء کو عربوں میں مبعوث فرمایا اور بعد میں ان کے عمل نے ثابت