خطبات وقف جدید — Page 213
213 حضرت خلیل لمسیح الثالث رہے اور پھر آخر میں بہت ہی اچھا سب سے اچھا کام کرنے کی توفیق ملی ویسے پہلے کام بھی اسی سلسلہ میں تھے لیکن نمایاں ہو کر قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور قرآن کریم کے تفسیری نوٹ انگریزی میں تیار کرنے کا کام ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شروع میں اس غرض کے لئے ایک کمیٹی بنادی تھی جس کے ممبر محترم ملک صاحب بھی رہے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے تین آدمیوں پر مشتمل کمیٹی بنی تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ، حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت ملک غلام فرید صاحب رضی اللہ عنہ تینوں کی ایک کمیٹی تھی جس نے انگریزی ترجمہ کا کام کیا اور جو مختصر تفسیری نوٹوں والا کام تھا اور کچھ ترجمہ کو REVISE کرنے کا کام تھا اسے ملک صاحب مرحوم نے اپنی آخری عمر میں بڑی محنت کے ساتھ ایک ایک لفظ کی تحقیق کر کے مکمل کیا جو انگریزوں کے لئے بھی حیرانی کا باعث بنا یعنی اگر وہ غیر مسلم تھے اور انہوں نے قرآن کریم سیکھنے کی کوشش کی تو ان کے لئے بھی حیرانی کا باعث تھا اور باعث برکت تھا ان احمدیوں کیلئے بھی جو قریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا ایک بڑا حصہ انگریزی دان بھی ہے۔تفسیری نوٹ فٹ نوٹ کی شکل میں ہیں۔جس طرح حضرت مصلح موعود کے تفسیر صغیر کے نوٹ اردو میں ہیں انہیں کے او پر بنیا در کھ کر ملک صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ نے تفسیری نوٹ تیار کئے ہیں۔الہی تقدیر تو اپنا کام کرتی ہے۔جو شخص اس دنیا میں آتا ہے اسے ایک دن جانا بھی ہوتا ہے اسی لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ جب ایک دن جانا ہی ہے اور ہمیشہ کی زندگی ہے جس کے اندر تمہیں داخل ہونا ہے تو اسکے لئے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت ملک غلام فرید صاحب رضی اللہ عنہ نے بڑی پیاری زندگی گزاری ہے۔ان میں دینی غیرت بھی بڑی تھی اور اطاعت بھی بڑی تھی یعنی خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت۔ایک چھوٹا سا واقعہ مجھے یاد آ گیا۔ہم قادیان میں خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام وقار عمل منایا کرتے تھے۔یہاں اس شکل میں اب وقار عمل نہیں ہوتے وہاں تقریباً سارے خدام اور انصار شامل ہوا کرتے تھے۔اور ان کے گرد رضا کار پہرہ دے رہے ہوتے تھے۔اور روایت یہ بن گئی تھی کہ ہر شخص وہاں آئے اور کوئی شخص اجازت کے بغیر اس علاقے سے باہر نہ نکلے۔ایک دن کوئی ایک تہائی وقت گذرا تھا ایک رضا کار نے آکر مجھے کہا۔(میں ان دنوں صدر مجلس خدام الاحمد یہ تھا کہ ملک غلام فرید صاحب آئے اور تھوڑی دیر بعد ہی چلے گئے۔میں نے ان کو روکا اور انہوں نے بازو سے پکڑ کر پرے دھکیل دیا اور چلے گئے۔اس نے اپنی طرف سے شکایت کی۔میں چونکہ ملک صاحب کو جانتا تھا اس لئے میں نے ان کی بات سن لی۔میرا خیال تھا کہ میں خود ہی بات کرلوں گا ان سے کہ کیا قصہ ہے میں جانتا تھا کہ وہ بغیر اجازت کے اس طرح جانے والے نہیں۔دوسری طرف ملک صاحب کو کسی نے کہا، یا کہ شاید میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے