خطبات وقف جدید — Page 214
۔۔۔۔۔214 حضرت خلیفتہ امسح الثالث پاس ان کی شکایت کر دی ہے اس لئے خلافت سے ان کو جو پیار اور محبت تھی اس کی وجہ سے وہ سخت گھبرائے کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔چنانچہ ان کا میرے پاس خط آگیا کہ آپ نے کیوں میری شکایت کر دی۔مجھ سے تو بات کر لینی تھی میں آپکو اصل وجہ بتادیتا۔خیر میں نے ان کو بتایا کہ میں نے کوئی شکایت نہیں کی وہ کہنے لگے کہ بات یہ تھی کہ ریویو آف ریلیجنز کی اشاعت کے سلسلہ میں میں نے گاڑی پکڑنی تھی۔اسی دن جس دن وقاری عمل تھا لیکن مجھ سے یہ رہا نہیں گیا اور میں نے کہا وقار عمل میں شامل ہونا ثواب کا موقع ہے تو میں تھوڑی دیر کیلئے آکر شامل ہو جاتا ہوں کیونکہ گاڑی کا جو وقت تھا اس سے پہلے مجھے تھوڑا سا وقت مل جاتا تھا کہ میں وقار عمل میں بھی شامل ہو جاؤں اور گاڑی بھی پکڑ لوں (غالبا وہ لاہور جارہے تھے ) تو اس عرصہ کے لئے میں وقار عمل میں شامل ہوا اور مجھے جتنا وقت میسر تھا میں نے وقار عمل میں حصہ لیا اور اسکے بعد میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ میں اجازت لیتا۔میں نے کہا کہ میں بعد میں بات کر لونگا سو میں چلا گیا۔میں نے ان سے کہا آپ نے بڑا اچھا کیا۔گو یہ ہے تو ایک چھوٹا سا واقعہ لیکن اس میں ان کو جو پیار اور تعلق تھا خلافت سے وہ بھی ظاہر ہوتا ہے اور جو ان کا تعلق تھا نظام جماعت سے وہ بھی ظاہر ہوتا ہے اور جو ان کا احساس تھا اپنی ذمہ داری کو نباہنے کا، وقت پر ریویو شائع ہو جائے وہ بھی ظاہر ہوتا ہے اور جو تھوڑا سا وقت ایک نیکی کے کرنے کا ان کو ملا اور جسے وہ پورا ثواب سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ ثواب دے ہی دیتا ہے ایسے نیت والے آدمیوں کو تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ تین گھنٹے وقار عمل میں شامل نہیں ہو سکتے تو چلو ایک گھنٹہ ہی شامل ہو جائیں۔پس ایک ایسا وجود ہم سے جدا ہوا ہے ایک تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی جواولاد ہے اور دوسرے عزیز واقارب جو وہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں ان پر بھی رحمت نازل کرتا رہے اور ان کا بھی خاتمہ بالخیر کرے۔ہم سب کا خاتمہ بالخیر کرے۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے وجود کثرت سے جماعت میں پیدا ہوتے رہیں اخلاص کے لحاظ سے بھی علم کے لحاظ سے بھی اور ہر وقت فدائیت کے ساتھ خدمت اسلام کا جو جذبہ ہے اس لحاظ سے بھی اور ہماری علمی میدان کی جو ضرورتیں ہیں اللہ کرے کہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو ان ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہوں۔ملک صاحب مرحوم کی نماز جنازہ عصر کی نماز کے بعد چار بجے بہشتی مقبرہ کے میدان میں پڑھی جائیگی۔دوستوں کو چاہیے کہ احمدیت کے ایسے بزرگ اور فدائی کی نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شامل ہوں۔جہاں ہمیں اپنے لئے بھی دعا کا خاص موقع ملتا ہے اور جانے والے بھائی کیلئے بھی دعا کا خاص موقع ملتا ہے۔(روز نامه افضل 5 مارچ 1977ء)