خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 60 of 682

خطبات وقف جدید — Page 60

60 حضرت مصلح موعود فرمایا بہت اچھا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔ابوسفیان نے کہایا رسول اللہ میرا گھر کتنا بڑا ہے؟ اس میں تو سب لوگ نہیں آ سکتے ، بے شک جو لوگ اندر آگئے وہ تو امن میں آجائیں گے مگر باقی لوگوں کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو شخص خانہ کعبہ میں گھس جائے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔ابوسفیان نے کہا یا رسول اللہ خانہ کعبہ بھی سارے مکہ والوں کو اپنے اندر نہیں سماسکتا اور نہ ہی ہر شخص اعلان سن سکتا ہے کوئی ایسی صورت پیدا کی جائے جو ہر شخص کو نظر آ جائے۔آپ نے فرمایا اچھا۔کچھ کپڑا لاؤ۔چنانچہ کپڑا لایا گیا اور آپ نے اس کا ایک جھنڈا بنایا اور وہ جھنڈا ابورویحہ کے ہاتھ میں دیا جن کو آپ نے حضرت بلال کا بھائی بنایا ہوا تھا اور فرمایا جو شخص اس جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اسے بھی پناہ دی جائے گی۔اس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی مکہ والے حضرت بلال کے پیروں میں رستہ ڈال کر انھیں تپتی ریت پر گھسیٹا کرتے تھے۔انھیں تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بڑے بڑے بھاری جوتوں سمیت کو دا کرتے تھے چنانچہ ان کی پیٹھ کا رنگ گرگٹ کی پیٹھ کا سا ہو گیا تھا اور وہ بالعموم اپنی پیٹھ دوسرے لوگوں کو دکھایا کرتے صلى الله تھے۔رسول کریم ﷺ نے خیال فرمایا کہ آج بلال کا دل انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہو گا اس لئے اس کا انتقام لینا بھی ضروری ہے لیکن میرا انتقام شاندار ہونا چاہیئے میری شانِ نبوت یہ ہے کہ میں سب کو معاف کر دوں لیکن بلال خیال کرے گا کہ محمد رسول اللہ علیہ نے اپنے بھائیوں کو تو معاف کر دیا اور میرا انتقام یوں ہی رہا۔اس حکمت کے پیش نظر آپ نے ایک جھنڈا بنا کر آپ کے ایک بھائی کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا جو شخص اس جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اسے بھی امن دیا جائے گا اور بلال کو کہا کہ تم ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ تا وہ سمجھ لیں کہ آج میری وجہ سے مکہ والوں کو معاف کیا گیا ہے۔یہ انتظام فرما کر آپ مکہ میں داخل ہوئے آپ نے حضرت خالد کو ایک دوسری جانب سے شہر میں داخل ہونے کا ارشادفرمایا تھا اور انھیں سختی سے حکم دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص تم سے لڑائی نہ کرے تم نے کسی سے لڑائی نہیں کرنی۔لیکن جس طرف سے حضرت خالد مکہ میں داخل ہوئے غالباً اس طرف امن کا پیغام نہیں پہنچا تھا اس لئے اس علاقہ کے لوگوں نے حضرت خالد کا مقابلہ کیا جس میں ان کے 24 آدمی مارے گئے۔کسی نے دوڑ کر رسول کریم تک یہ خبر پہنچادی آپ نے حضرت خالد کو بلایا اور سرزنش کی۔حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ آپ کی ہدایت مجھے یاد ہے لیکن ان لوگوں نے تنگی تلواروں کے ساتھ ہمارا راستہ روکا اور ہم پر حملہ کیا اگر یہ لوگ ہم پر حملہ نہ کرتے تو میں بھی ان لوگوں کو قتل نہ کرتا۔بہر حال اس خفیف سے واقعہ کے سوا اور کوئی واقعہ نہ ہوا اور صلى الله رسول کریم ﷺ مکہ میں داخل ہو گئے جب رسول کریم ﷺ خانہ کعبہ کے پاس آکر کھڑے ہوئے تو مکہ کے سارے روساء جو آپ پر تھو کا کرتے تھے اور آپ کو مارا اور دکھ دیا کرتے تھے ، آپ کے سامنے کھڑے ہو صلى الله۔