خطبات وقف جدید — Page 59
59 59 حضرت مصلح موعود پیچھے آرہا ہے وہ تیری خبر لے گا۔چنانچہ حضرت عباس نے ابو سفیان کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پیچھے بٹھا لیا الله اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے رسول کریم ﷺ کے پاس جا پہنچے۔وہاں پہنچتے پہنچتے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔رسول کریم ﷺ نے اس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباس سے فرمایا عباس تم ابوسفیان کو صل الله اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو۔صبح میرے پاس لانا۔چنانچہ ابوسفیان ساری رات حضرت عباس کے پاس رہا جب صبح اسے رسول کریم ﷺ کے پاس لائے تو فجر کی نماز کا وقت تھا اور رسول کریم ہے نماز پڑھا رہے تھے اور دس ہزار کا لشکر پیچھے صف باندھے کھڑا تھا رسول کریم اللہ نے جب رکوع کے لئے صلى الله اپنا سر جھکایا تو دس ہزار مسلمان آپ کی اتباع میں نیچے جھک گئے۔رسول کریم وہ رکوع سے کھڑے ہوئے تو دس ہزار مسلمان کھڑے ہو گئے۔پھر رسول کریم میلہ سجدہ میں گرے تو دس ہزا را فرا دسجدہ میں گر گئے ، پھر سجدہ سے اٹھے تو دس ہزار افراد سجدہ سے اٹھ بیٹھے ، پھر دوبارہ سجدہ کے لئے جھکے تو دس ہزار افرا دسجدہ میں جھک گئے پھر سجدہ سے اٹھ کر تشہد کے لئے بیٹھے تو دس ہزار افراد تشہد میں بیٹھ گئے۔ابوسفیان نے سمجھا کہ شاید میرے لئے یہ کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہوا ہے۔چنانچہ اس نے حضرت عباس سے جو پہرہ پر مقرر ہونے کی وجہ سے نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے دریافت کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ انھوں نے کہا ابوسفیان گھبراؤ نہیں یہ تمہارے مارنے کی تیاری نہیں رسول کریم ﷺ نماز پڑھا رہے ہیں اور یہ مسلمان تو ایسے ہیں صلى الله علوم کہ اگر آپ فرما ئیں کہ کھانا چھوڑ دو تو وہ کھانا بھی چھوڑ دیں۔ابوسفیان پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور اس نے کہا میں نے کسریٰ کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے لیکن ان کی قوموں کو بھی میں نے ان کا ایسا فدائی نہیں دیکھا جیسے محمد رسول اللہ علی کی جماعت اس کی فدائی ہے کہ آپ نیچے جھکے تو سب لوگ جھک گئے ، سجدہ میں گرے تو سب لوگ سجدہ میں چلے گئے ، تشہد کے لئے بیٹھے تو سب لوگ تشہد میں بیٹھ گئے۔یہ بے نظیر اطاعت ہے جو میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس ابوسفیان کو لے کر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔رسول کریم ﷺ نے کہا ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم کرلو؟ ابوسفیان نے کچھ تردد کا اظہار کیا لیکن پھر کچھ خوف کی وجہ سے اور کچھ حضرت عباس کے زور دینے کی وجہ سے اس نے صلى الله الله بیعت کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔پھر اس نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ تو بڑے مہربان ہیں مکہ والے آپ کے رشتے دار ہیں کوئی ان کے بچاؤ کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہر شخص جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے گا اسے امن دیا جائے گا۔حضرت صلى الله عباس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ابوسفیان کی عزت کا بھی کچھ سامان کر دیا جائے۔رسول کریم ﷺ نے