خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 61 of 682

خطبات وقف جدید — Page 61

61 حضرت مصلح موعود گئے اور آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو ! تمہیں یاد ہے کہ میں نے توحید کا نعرہ بلند کیا اور تم نے مجھے گالیاں دیں میں نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے تمہیں کہا اور تم نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے ہمیں نے تم کو نیکی اور تقویٰ کی تعلیم دی مگر تم نے کہا کہ یہ شخص روپیہ کمانا چاہتا ہے یا شاید کسی خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن خدا نے میری مدد کی میں اکیلا تھا اور تم ہزاروں کی تعداد میں تھے۔سارا عرب تمہارے ساتھ تھا۔تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے۔اب بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ مشرکین مکہ کی خوش قسمتی تھی کہ انھوں نے حضرت یوسف کا واقعہ کہیں سے سنا ہوا تھا انھوں نے کہا محمد ﷺ ہم کیا کہیں جو سلوک یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا وہی سلوک آپ ہم سے کریں چنانچہ آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ آج تم پر کوئی گرفت نہیں کی جاتی۔جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا ہے چنانچہ مکہ والے خوش خوش اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور مسلمانوں کی تلوار میں اپنی میانوں کے اندر چلی گئیں۔وہ تو چاہتے تھے کہ آج مشرکین مکہ کو تلواروں سے ریزہ ریزہ کر دیں آخر وہ واقعات جو ان کے سامنے گذرے تھے ان کی آنکھوں کے آگے پھر رہے تھے۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی نے آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دی وہ کافی بوجھل تھی اس کے بوجھ کی وجہ سے آپ اپنا سر نہ اٹھا سکے جب تک کہ حضرت فاطمہ نے جو ابھی چھوٹی عمر کی تھیں دوڑ کر آپ سے اس اوجھڑی کو نہ ہٹایا۔اس طرح ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ لوگوں نے آپکے گلے میں پڑکا ڈال کر کھینچنا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں اتنے میں حضرت ابو بکر وہاں آگئے اور انھوں نے آپ کو چھڑایا اور کہا اے لوگو کیا تم ایک شخص کو صرف اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ خدا میرا آتا ہے۔آخر یہ تم سے کچھ مانگتا تو نہیں صرف یہ کہتا ہے کہ خدا ایک ہے اس کی عبادت کرو۔مگر تم اسے مارنے لگ جاتے ہو۔یہ ان لوگوں کی حالت تھی اور تم سمجھ سکتے ہو کہ جب ان دکھی مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے مشرکین مکہ پر غلبہ عطا کر دیا تو ان کے دلوں کی کیا حالت ہوگی مگر اس کے باوجود جب رسول کریم ﷺ نے مکہ والوں کو معاف کر دیا تو انھوں نے بھی انھیں معاف کر دیا۔حضرت ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمن " جنگ بدر کے بعد ایمان لائے تھے ،جنگ بدر کے بعد انھوں نے ایک دن حضرت ابو بکر کو سنایا کہ آپ ایک دفعہ زور سے حملہ کرتے ہوئے ہمارے لشکر تک پہنچ گئے تھے اور میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا تلوار میرے ہاتھ میں تھی اور میں اگر چاہتا تو آپ پر حملہ کر سکتا تھا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ آپ میرے باپ ہیں اس لئے میں نے اپنا ارادہ نسخ کر دیا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا تیری قسمت اچھی تھی کہ تو مجھے نظر نہ آیا اور نہ خدا کی قسم اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو میں تیری بوٹیاں اڑا دیتا اور اس