خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 141 of 682

خطبات وقف جدید — Page 141

141 حضرت خلیفة المسیح الثالث تھا وہ پوری طرح حاصل نہیں کیا جا سکا۔پس ایک تو آج میں وقف جدید کے سالِ نو کا اعلان کرتا ہوں اور دوسرے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ بس میں نے ایک آواز اٹھائی اور وہ آواز اخبار میں چھپ گئی لوگ خاموش ہو گئے اور سو گئے بلکہ سالِ نو کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ نیا سال آ رہا ہے مختلف زاویوں پہلوؤں سے نئی ذمہ داریوں اور نئی قربانیوں کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے لا سکتے ہیں۔ان میں سے ایک ذمہ داری وقف جدید کی ہے اس ذمہ داری کو اپنے سامنے رکھیں جتنے روپے کی ہمیں ضرورت ہے وہ مہیا کریں اور بطور معلمین جتنے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہے ہمیں دیں اور مخلص واقف دیں۔خدا تعالیٰ کی محبت رکھنے والے اور اس کی خاطر تکالیف برداشت کرنے والے، اس کے عشق میں سرشار ہو کر اس کے نام کو بلند کرنے والے مسیح موعود علیہ السلام پر حقیقی ایمان لانے کے بعد اور آپ کے مقام کو پوری طرح سمجھنے کے بعد جو ایک احمدی کے دل میں ایک تڑپ پیدا ہونی چاہئے کہ تمام احمدی اس روحانی مقام تک پہنچیں جس مقام تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام انھیں لے جانا چاہتے تھے۔اس تڑپ والے واقفین ہمیں وقف جدید میں چاہئیں۔تو ایک تو وقف جدید کے چندوں کی طرف متوجہ ہوں دوسرے وقف جدید کے لئے جتنے اور جس قسم کے احمدیوں کی ضرورت ہے بطور معلم کے وہ آدمی اتنی تعداد میں مہیا کرنے کی کوشش کریں۔ہماری جماعت میں سے سو آدمی کا مہیا ہو جانا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ ہم اس طرف توجہ کریں بعض جماعتوں کے عہدیداروں نے جیسا کہ رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے، جماعتوں کو بتایا نہیں کہ مرکز سے کیا آواز اٹھ رہی ہے، کیا مطالبہ ہو رہا ہے اور کیا ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔اور اس کے مقابلہ پر اللہ تعالیٰ کی کس قدر اور کس شان کے ساتھ رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ایسی جماعت کے دوست نیم بے ہوشی کی سی حالت میں یہ سمجھتے ہیں (ایمان تو ہے، ایمان کی چنگاری تو سُلگ رہی ہے ) کہ ہم اس طرف چل رہے ہیں جس طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلانا چاہتے تھے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اس رفتار سے نہیں چل رہے جس رفتار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں چلانا چاہتے تھے۔نہ اس بشاشت کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں نہ اتنے اخلاص کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں۔نہ اتنی قربانیوں کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں جس بشاشت ، جس اخلاص اور جن قربانیوں کا ہمارا بیعت کا عہد ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔پس چست ہونے کی ضرورت ہے ، اخلاص میں برتر ہونے کی ضرورت ہے، قربانیوں میں تیز تر ہونے کی ضرورت ہے جس مقصد کے لئے ہمیں قائم کیا گیا اور زندہ کیا گیا اور منظم کیا گیا ہے اس مقصد کے