خطبات وقف جدید — Page 142
142 حضرت خلیفقه لمسیح الثالث قریب تر ہونے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے۔صلى الله - علوسام نَى عِبَادِي إِنِّي اَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ میں جس بشارت کی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔وَاَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ میں جس شدید عذاب سے بچنے کے لئے ہمیں تلقین کی گئی ہے اس کے پیش نظر میری توجہ اس طرف بھی پھری کہ یہ سال وہ ہے کہ جو رمضان کے مہینہ میں ختم ہورہا ہے اور رمضان کے مہینہ سے ہی نیا سال شروع ہو رہا ہے تو اس میں شاید اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تمہاری قربانیوں کا زمانہ خدا کے لئے ، خدا کی خاطر بھوکے رہنے کا زمانہ ، خدا کی رضا کی خاطر راتوں کے آرام کو قربان کرنے کا زمانہ مسلسل چلنے والا ہے کہ ایک سال انہی قربانیوں پرختم ہو رہا ہے اور دوسرا سال انہی قربانیوں سے شروع ہو رہا ہے لیکن اس میں خوشی کی بات یہ ہے کہ جن قربانیوں سے ہمارا سال شروع ہورہا ہے یہ وہ قربانیاں ہیں جن میں رمضان کا آخری عشرہ بھی ہے جس میں لیلۃ القدر پائی جاتی ہے۔تو خدا کرے کہ نیا سال جو ہم پر چڑھ رہا ہے وہ ہمارے لئے لیلۃ القدر لانے کا موجب بھی بنے۔وہ وعدے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہمیں دئے گئے۔( غلبہ اسلام کے وعدے اور محمد رسول اللہ للہ کی محبت تمام بنی نوع انسان کے دلوں میں پیدا ہو جانے کے وعدے اور توحید خالص کے قیام کے وعدے ) ان وعدوں کے پورا ہونے کا ان وعدوں کے متعلق قضا و قدر کے نزول کا زمانہ خدا کرے اس نئے سال سے شروع ہو جائے اور خدا کرے کہ اتنی عظیم بشارتوں کے نتیجہ میں جو اہم ذمہ داریاں خدا کے نیک بندوں پر عائد ہوتی ہیں وہ ہمیں محض اپنے فضل اور رحم سے توفیق دے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو نبھانے والے ہوں اور فرشتے تمام عالمین میں یک زبان ہو کر اس صدا کو بلند کریں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برگزیدہ جماعت ہے جن پر خدا کی ابدی شریعت کی یہ آیت پوری ہوتی ہے نبی عِبَادِي انـــى نَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ اور خدا کی مغفرت اور خدا کی رحمت کے یہ لوگ وارث ہوئے ہیں۔خدا کرے کہ خدا کے فضل سے ایسا ہو ورنہ ہم انفرادی طور پر اور جماعتی لحاظ سے بھی بڑے کمزور ہیں ہم جب اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں تو شرمندگی کے آنسوؤں سے ہمارے دامن تر ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی راہ میں جو ہمیں کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے نہیں کیا اور تہی دست ہی خدا کے سامنے پیش ہو رہے ہیں دعائیں کرتے ہوئے کہ اے خدا ! ہم کمزور ہی سہی مگر تیری صفات تو کمزور نہیں ، تو تمام قد رتوں والا ، تو تمام طاقتوں والا ، تو ہر قسم کی رحمتوں والا ہے ، تمام رحمتوں اور برکات کا سرچشمہ اور منبع تو ہے۔ہم بنجر زمین ہی سہی مگر جس بنجر زمین پر تیری رحمتوں کے چشمے ہیں گے وہ یقیناً یقیناً جنت کے باغات بن جائیں گے۔