خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 92 of 682

خطبات وقف جدید — Page 92

92 حضرت خلیفة المسیح الثالث جن کو خدا نے توفیق دی ہے انھیں نئی کتب تصنیف کرنے میں پوری جدو جہد کرنی چاہیے۔درجنوں کتب اعلیٰ علمی معیار کی ہر سال شائع ہونی چاہئیں جو حضور کے پیش کردہ دلائل پر مشتمل ہوں۔ان میں نیا مواد شائع نہ بھی ہو تو بھی وہ دنیا پر یہ ثابت کریں گی کہ جس طرح قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے اسی طرح حضور کی کتب بھی ایک زندہ لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں جن میں سے نئے نئے معارف نکلتے چلے آتے ہیں اور ان کا سلسلہ بھی ختم نہیں ہوتا۔(سلسلہ کے لٹریچر سے متعلق اس اصولی وضاحت کے بعد حضرت خلیفہ المسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حال ہی میں شائع ہونے والی کتب میں سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات کی جلد ہشتم ، حضرت مصلح موعود کی تفسیر صغیر کا جدید ایڈیشن محترم ابوالعطاء صاحب فاضل کی تصنیف ”تفہیمات ربانیہ ، حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کی کتاب حجابی قدرت ہمکرم رحمت اللہ شاکر صاحب کی کتاب مسلم نو جوانوں کے سنہری کارنامے ، مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور کا شائع کردہ مجلہ یادگار ” فاروق خرید نے اور ان سب کتب سے استفادہ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔نیز سلسلہ کے اخبارات ورسائل میں سے الفضل ، الفرقان، ماہنامہ انصار اللہ ، خالد، تشخیز اور لاہور کی اشاعت کو بڑھانے اور ان اخبار اور رسائل کو خرید کر ان سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی تحریک فرمائی اور علی الخصوص الفضل کا معیار بلند کرنے کے سلسلہ میں ادارہ الفضل کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اسے بیش قیمت نصائح سے نوازا۔) پھر حضور نے فرمایا کہ: سلسلہ احمدیہ کا نظام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ غلبہ اسلام کی جو تحریک جاری فرمائی وہ جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔اس جماعت کے نظام کی بنیاد ” الوصیت پر ہے۔جس میں حضور نے واضح فرمایا ہے کہ یہ نظام کن اصولوں اور کن بنیادوں پر قائم ہے۔میں جماعتی نظام اور اس کے مختلف شعبوں کے متعلق مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک وہ نظام جو الوصیت کی بنیادوں پر قائم ہوا اس کی تشکیل درجہ بدرجہ اس طرح پر ہے۔خلیفہ وقت، بحیثیت مجموعی ساری جماعت ، وہ تنظیمیں اور ان کے شعبے جنھیں خلیفہ وقت قائم کرتا ہے۔یہ ہمارا نظام ہے۔خلیفہ کا کام مامور من اللہ کی نیابت ہے۔اس نیابت کی رو سے ایک جماعتی نظام قائم ہوتا ہے۔اس نظام کو قائم رکھنے اور چلانے کی پوری پوری ذمہ داری خلیفہ