خطبات وقف جدید — Page 93
93 حضرت خلیفہ امسح الثالث وقت پر ہے۔اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک مخلصانہ مشوروں کی اور دوسرے مخلصانہ دعاؤں کی میں بھی احباب جماعت سے ان دو باتوں کی توقع رکھتا ہوں۔مجھے مخلصانہ مشوروں اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مجھے ملتی رہیں گی۔( احباب کی آواز میں حضور ہم آپ کے ساتھ ہیں) سوہمارا نظام مندرجہ ذیل باتوں پر مشتمل ہے: (1) (r) خلیفہ وقت جماعت (۳) انتظامی ادارے اور شعبہ جات حضور علیہ السلام نے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے جماعت کے ہر حصہ کو اقتصادی طور پر اور روحانی طور پر قائم رکھا۔پھر حضور نے جماعتی کاموں کو چلانے کے لئے ”الوصیت میں ایک مالی نظام بھی قائم کیا ہے۔اس کی رو سے وصیت کرنے والے احباب اپنی آمدن اور جائیداد کا 1/10 حصہ جماعتی خزانہ میں جمع کراتے ہیں۔انتظامی ادارے کے طور پر حضور نے صدر انجمن احمدیہ کا نظام قائم فرمایا تھا لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس نظام کی حیثیت کو غلط سمجھا۔ایک گروہ وہ تھا جوا کا بر پرمشتمل تھا اور ہر معاملہ میں صدر انجمن ہی کو کار مختارسمجھتا تھا اور دوسرا گروہ وہ جو کہتا تھا کہ خدا کا خلیفہ ہمارے ساتھ ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں موخر الذکر گروہ کامیاب ہو گیا۔صدرانجمن احمد بی اور اس کا دائرہ کار غلبہ اسلام کے تعلق میں جو کام صدر انجمن احمدیہ کے سپر د کیا گیا ہے وہ بہت اہم ہے اور اس لحاظ سے صدرانجمن احمد یہ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔میرا تا قریہ ہے کہ جو کام صدرانجمن احمدیہ کے سپر د ہے انجمن والے اس کے متعلق سوچتے بھی نہیں۔آپ جانتے ہیں ایک ملک کو سنبھالنا کتنا مشکل ہے۔ہمارے اپنے ملک میں موجودہ ہنگامی حالات کا ہر شعبہ زندگی پر اثر پڑا ہے اور نئے نئے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔اگر دیکھا جائے تو صدر انجمن کی ذمہ داری ایک ملک کو بھی سنبھالنے سے زیادہ ہے کجا ایک ملک کو سنبھالنا اور کجا یہ حالت کہ ایک ملک نہیں دو ملک نہیں ایک زبان بولنے والے ملک نہیں دوز با نیں بولنے والے ملک نہیں ایک قسم کی عادات والے ملک نہیں دو قسم کی عادات واطوار والے ملک نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں زبانیں بولنے والے اور قسم ہا قسم کی عادات واطوار رکھنے والے ملک ہیں جن