خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 91 of 682

خطبات وقف جدید — Page 91

91 حضرت خلیفہ المسح الثالث تقریر بر موقع جلسہ سالانہ 20/ دسمبر 1965ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق میں آج بعض عمومی رنگ کی باتوں کے متعلق کچھ کہوں گا۔سب سے پہلے تو بعض کتابیں اور رسالے ہیں جن کے متعلق یہ خواہش کی گئی ہے کہ میں ان کی خریداری کے لئے تحریک کروں۔اس تعلق میں میں اصولی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے لٹریچر میں بنیادی اہمیت کی حامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں اور ان کے بعد خلفاء کی کتب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علم کا اتنا بڑا خزانہ عطا کیا گیا تھا کہ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے کے لئے ہر ضروری مواد موجود ہے۔ہر امر کے بارہ میں راہنمائی ہمیں حضور کی کتابوں میں ملتی ہے۔ہر احمدی کو حضور کی خواہش کے مطابق حضور کی کتابوں کا کم از کم تین مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حضور کی کتابوں کا تین سو مرتبہ بھی مطالعہ کرے تب بھی اس کی طبیعت سیر نہیں ہوگی کیونکہ حضور کی کتب ایک علمی سمندر ہیں۔جب بھی اس سمندر میں غوطہ لگا ئیں نئے سے نئے موتی ملتے چلے جاتے ہیں۔میں نے خود حضور کی کتابوں کو دس پندرہ مرتبہ پڑھا ہے ہر مرتبہ ہی ایسی نئی نئی باتیں نگاہ میں آتی ہیں جن کے متعلق یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ نگاہ سے اوجھل ہوگئی تھیں۔حضور کی چھوٹی چھوٹی کتابوں میں بھی سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں نئی باتیں پائی جاتیں ہیں۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ایک چھوٹی سی کتاب ہے اس میں اگر ہم غور کریں تو عیسائیت کے غلط عقائد کی تردید میں ہمیں سینکڑوں دلائل ملیں گے۔پہلی دفعہ غور کرنے سے ہیں پچھپیں دلائل ہماری نظر میں آئیں گے۔پھر غور کریں تو اور دلائل ہماری نگاہوں کے سامنے آئیں گے اور علی ھذا القیاس بار بار مطالعہ کرنے سے نئے سے نئے مطالب نگاہ میں آنے کا یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔حضور کی سب کتب کا یہی حال ہے۔ہماری روحانی غذا ان میں پائی جاتی ہے اس کے بعد خلفاء کی کتب کا درجہ ہے وہ بھی اپنے رنگ میں علوم کا خزانہ ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بعد علم کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔اللہ بڑا دیالو ہے۔اس نے چاہا ہے کہ علم کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں۔چنانچہ ہر سال ایسی کتب شائع ہوتی ہیں جو واقعی بڑی کارآمد اور مفید ہوتی ہیں