خطبات وقف جدید — Page 77
77 حضرت مصلح موعود تقریر بر موقع جلسہ سالانہ 24 /جنوری 1960ء۔۔۔۔۔اسی طرح آئندہ خلفاء کو بھی وصیت کرتا ہوں کہ جب تک دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کر لیں اس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں خصوصاً اپنی اولا دکو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولا د در اولا د کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔اسی مقصد کو پورا کرنے اور اسلام کے نام کو پھیلانے کیلئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے جو چھپیں سال سے جاری ہے اور جس کے ماتحت آج دنیا بھر کے تمام اہم ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تبلیغی مشن قائم ہیں اور لاکھوں لوگوں تک خدا اور اس کے رسول کا نام پہنچایا جارہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغی مراکز کو وسیع کرنے اور مبلغین کا جال پھیلانے میں ہمیں خدا تعالیٰ نے بڑی بھاری کامیابی عطا کی ہے۔مگر ابھی اس میں مزید ترقی کی بڑی گنجائش ہے اور ابھی ہمیں ہزاروں واقفین زندگی کی ضرورت ہے جو دنیا کے چپہ چپہ پر اسلام کی تبلیغ کریں۔ہماری جماعت اب خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں ساٹھ ہزار واقفین زندگی کا میسر آنا کوئی مشکل امر نہیں اور اگر ایک آدمی سواحمدی بنائے تو ساٹھ ہزار واقفین زندگی کے ذریعہ ساٹھ لاکھ احمدی ہوسکتا ہے۔پھر ساٹھ لاکھ میں سے چار پانچ لاکھ مبلغ بن سکتا ہے اور چار پانچ لاکھ مبلغ چار پانچ کروڑ احمدی بنا سکتا ہے اور چار پانچ کروڑ احمدی اگر زور لگائے تو وہ اپنی تعداد کو چار پانچ ارب تک پہنچا سکتا ہے جو ساری دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے لیکن دوستوں کو یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کرشن بھی قرار دیا ہے اور آپ کو الہام ہے کہ وو ہے کرشن رو ڈ ر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔( تذکرہ:312) اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کرشن اور روڈ رگو پال قرار دیا گیا ہے۔روڈر کے معنے ہوتے ہیں درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا۔اور گوپال کے معنے ہوتے ہیں گائیوں کو پالنے والا یعنی نیک طبع لوگوں کی خدمت کرنے والا اس میں بتایا گیا ہے کہ مسیح موعود ایک طرف تو دلائل اور