خطبات وقف جدید — Page 78
78 حضرت مصلح موعود نشانات سے اپنے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور دوسری طرف اپنے انفاس قدسیہ سے نیک اور پاک لوگوں کی روحانی تقویت اور ان کے ایمانوں کی زیادتی کا موجب ہوگا۔احادیث میں بھی مسیح موعود کے متعلق آتا ہے کہ يَقْتُلُ الخِنْزِيرَ وَيَكْسُرُ الصَّلِيبَ یعنی مسیح موعود ختر بری طبع لوگوں کو جو سیدھا حملہ کرتے ہیں اپنے دلائل اور نشانات سے ہلاک کرے گا اور عیسائیت کے زور کو توڑ دے گا۔دتی میں ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ کشف میں دیکھا کہ حضرت کرشن آگ کے اندر جل رہے ہیں اور حضرت رام چندر جی اس کے کنارہ پر کھڑے ہیں۔وہ بزرگ یہ نظارہ دیکھ کر گھبرا گئے اور چونکہ وہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر دونوں کو بزرگ اور خدا رسیدہ انسان سمجھتے تھے اسلئے انہوں نے کسی اور بزرگ سے اس کی تعبیر پوچھی۔انہوں نے کہا کہ حضرت کرشن کو آگ کے اندر دیکھنے کی تعبیر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے عشق میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور حضرت رام چندر کو کنارہ پر دیکھنے کی تعبیر ہے کہ ان کے دل میں اتنا عشق نہیں تھا جتنا حضرت کرشن کے دل میں تھا۔بہر حال اس الہام سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں خدا تعالیٰ کی بے انتہا محبت تھی۔کیونکہ آپ کو الہام میں کرشن قرار دیا گیا ہے اور اس بزرگ کے کشف اور تعبیر میں یہی بتایا گیا ہے کہ حضرت کرشن خدا تعالیٰ کی محبت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور اس الہام میں آپ کو گئو پال قرار دے کر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں میں جولوگ نیک طبع اور شریف ہونگے ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے لوگ مدد کریں گے۔گائے سور کی طرح حملہ نہیں کرتی اور وہ مردہ گوشت نہیں کھاتی بلکہ سبزی کھاتی ہے۔پس آپ کو گئو پال کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ گائے کی سی طبیعت رکھنے والے ہوں گے یعنی نرم مزاج اور نیک اور شریف لوگ ہوں گے خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی جماعت ان کی مدد کرے گی اور ان سے ہمدردی رکھے گی۔ابھی تو دنیا میں عیسائیت کا غلبہ ہے اور ہماری اتنی بھی تعداد نہیں کہ ہم ہندوؤں پر غالب آجائیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کا کرشن نام رکھنا بتاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوؤں پر بھی غالب آجائیں گے اور يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ بتاتا ہے کہ ہم ساری دنیا کے عیسائیوں سے بھی بڑھ جائیں گے۔پس جو لوگ ہجرت کے بعد پاکستان آگئے ہیں وہ پاکستان میں احمدیت کو پھیلانے کی کوشش کریں اور جولوگ ہندوستان میں رہتے ہیں وہ ہندوستان میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں۔اور بیرونی ممالک کے مبلغین یورپ اور امریکہ میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ ساری دنیا احمدی ہو