خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 71 of 682

خطبات وقف جدید — Page 71

71 حضرت مصلح موعود پاس رکھیں اور لوگوں کو پڑھنے کیلئے دیں تو آہستہ آہستہ لوگوں میں قرآن سیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے پچھلی جنگ میں ہمارے ایک دوست عراق گئے۔انہوں نے ایک غیر احمدی کرنل کو تفسیر کبیر پڑھنے کیلئے دی۔انہوں نے جب واپس لی تو وہ کہنے لگا مجھے یہ کتاب دے دو اور سور و پیہ لے لو۔چنانچہ وہ کہتے ہیں اس نے سوروپیہ مجھے دیدیا اور میں نے تفسیر کبیر کیلئے قادیان لکھ دیا لیکن مجھے معلوم ہوا کہ تفسیر کبیر کی وہ جلد ختم ہو چکی ہے۔پس ہمارے دوست اگر تبلیغ کیلئے یہ طریق استعمال کریں تو بڑا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ایسا نہ کریں کہ وہ تفسیر کبیر کی ان دو جلدوں کا جو ان کے پاس ہیں سوسور و پیہ مجھ سے مانگنا شروع کر دیں۔میں نے پچھلے سال جلسہ پر ذکر کیا تھا کہ پندرہ سال پہلے ایسا ہوا تھا لیکن ایک دوست نے جھٹ اپنی تفسیر مجھے بھیج دی اور کہا کہ ایک سو روپیہ مجھے دیدیں میں نے کہا یہ تو پندرہ سال پہلے کی بات ہے اب تو مجھے پتہ بھی نہیں کہ وہ صاحب کہاں ہیں۔کہنے لگا کچھ کم روپے دیدیں میں نے کہا۔میں نے تو تفسیر خرید نی نہیں میرے پاس تفسیر موجود ہے۔میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ ایک غیر احمدی افسر پر اس کا اس قدر اثر ہوا تھا کہ اس نے سوروپیہ دے کر اس کتاب کو خریدنا چاہا۔جاؤ اور عراق سے اس آدمی کو تلاش کرو شاید وہ آدمی مل جائے اور تفسیر لے لے میں کیوں لوں۔بعد میں وہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو لکھتے ہیں کہ کچھ روپیہ ہی مجھے دے دیں۔ساٹھ ہی دیدیں چالیس ہی دے دیں۔بہر حال جو شخص ان کتابوں کو پڑھتا ہے اس پر اثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔میں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ اگر کوئی غیر احمدی کتاب خرید کر پڑھنا چاہے تو اسے نصف قیمت میں دیدو۔بہر حال بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے تفسیر کبیر پڑھی اور بعد میں اس کے متعلق بڑی اچھی رائے کا اظہار کیا۔تفسیر کبیر کا تو ہر ایک کیلئے پڑھنا مشکل ہے لیکن تفسیر صغیر سے تھوڑی سی محنت کے بعد پورا قرآن پڑھا جا سکتا ہے۔اس لئے اس کی طرف توجہ بہت مفید ہو سکتی ہے۔یہ تبلیغ کیلئے با بہترین ذریعہ ہے۔زبانی تبلیغ کرنے بیٹھو تو بعض اوقات لڑائی ہو جاتی ہے اور فتنہ پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے لیکن اگر تم کسی کو کتاب پڑھنے کیلئے دے دو تو وہ گھر میں بیٹھ کر ہی اسے پڑھے گا۔اور اگر وہ گھر میں بیٹھا ہوا وہ کتاب پڑھے گا تو وہ بیوی سے تو نہیں لڑے گا اور نہ تم سے لڑائی کر سکے گا۔اس لئے یہ طریق بہت مفید ہے دوسرے قرآن میں یہ برکت ہے کہ وہ دوسرے پر اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ سنایا کرتے تھے۔کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک رئیس آیا جو شراب کا عادی تھا۔میں نے اسے بہت سمجھایا کہ شراب چھوڑ دو۔مگر وہ کہتا تھا کہ مجھ سے شراب چھوڑی نہیں جاتی۔اس نے کہا مجھے حضرت صاحب سے ملا دو۔چنانچہ میں نے اس کی ملاقات کا انتظام کروا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ دار الفکر میں لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد جب