خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 72 of 682

خطبات وقف جدید — Page 72

72 حضرت مصلح موعود وہ باہر نکلا تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔آپ فرماتے تھے۔میں نے کہا تمہیں کیا ہوا کہنے لگا آپ نے مجھے اتنی نصیحت کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔لیکن مرزا صاحب نے صرف چند لفظ کہے تو میری چیخیں نکل گئیں اور آج سے میں نے عہد کر لیا ہے کہ آئندہ کبھی شراب نہیں پیوں گا۔حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں جو اثر ہوسکتا تھاوہ میرے کلام میں کہاں ہوسکتا تھا اور یہ سچی بات ہے کہ جو فرق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول کے کلام میں تھا اس سے لاکھوں گنا فرق آپ لوگوں کے کلام اور قرآن کریم میں پایا جاتا ہے آپ لوگ اگر کسی کو وعظ ونصیحت کریں گے تو اتنا اثر نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر قرآن اسے پڑھنے کیلئے دیں گے تو اس پر بہت زیادہ اثر ہو گا۔غرض لوگوں تک حق پہنچانے اور ان کے دل نرم کرنے کا یہ سب سے بہتر ذریعہ ہے۔قرآن کریم میں حُب وطن کا بھی ذکر آتا ہے۔تہذیب و تمدن کا بھی ذکر آتا ہے اپنے ہمسایوں پر رحم کرنے کا بھی ذکر آتا ہے غیر مذاہب کے لوگوں سے ہمدردی کرنے کا بھی ذکر آتا ہے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص قرآن پڑھے اور پھر دوسرے پر ختی کرے۔ابھی ایک جگہ ایک احمدی کو سزا ملی ہے۔چھوٹا افسر جو سزا دینے والا تھا وہ مخالف تھا۔اس کی اپیل ایک اور اعلیٰ افسر کے پاس گئی تو اس نے کہا۔کیا مرزائی ہی سزا دینے کیلئے رہ گئے ہیں۔عیسائی بھی تبلیغ کرتے ہیں۔اگر انہوں نے تبلیغ کی تو کیا ہوا۔گویا یہ فطرت کی آواز تھی جو اس کے دل سے آئی ممکن ہے اس نے قرآن کریم پڑھا ہوا ہو۔اور اس پر یہ اثر ہو کہ اگر عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی حسن سلوک کرنے کا حکم ہے تو غریب مرزائی کو کیوں سزادی جائے۔تو یہ تبلیغ کا ایک نہایت ہی کامیاب ذریعہ ہے اس کی طرف خاص توجہ کرنے چاہیے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ایک دوست شیر محمد یکہ بان ہوتے تھے وہ کا ٹھ گڑھ کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ایک سو سے زیادہ احمدی کیا تھا۔ان کی تبلیغ کا یہ طریق تھا کہ وہ الحکم منگوایا کرتے تھے۔وہ ان پڑھ تھے لیکن الحکم جیب میں ڈالے رکھتے تھے۔اور جو آدمی پڑھا لکھا یکہ میں بیٹھتا اسے کہتے بھائی جی مجھے یہ اخبار پڑھ کر سنائیں۔وہ شخص الحکم پڑھنا شروع کرتا اور اس پراثر ہونا شروع ہو جا تا اور یا تو وہ سخت مخالف ہوتا تھا اور یا پھر گھر پہنچ کر لکھتا مجھے پہ دیکھو دو میں نے بھی یہ اخبار منگوانا ہے۔اس میں بہت اچھی باتیں ہیں۔وہ پھر تھوڑے دنوں کے بعد آتا اور کہتا میری بیعت کا خط لکھ دو۔اس طرح انہوں نے سو سے زیادہ احمدی کئے اگر الحکم دلوں پر اثر کر سکتا ہے تو قرآن سے تو یقیناً بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ایسی برکت دے گا کہ لوگوں کے دل بالکل صاف ہو جائیں گے اور جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے آج جو تمہارے دشمن ہیں کل وہ تم پر جان قربان کرنے لگ جائیں گے۔اور اگر وہ تمہیں نقصان