خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 602 of 682

خطبات وقف جدید — Page 602

602 حضرت لعليم الي انا ما د الله تعالیٰ بنصرہ العزیز زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سوئیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت ومقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلّم سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے۔اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 516) آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ پیغام گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، اس ملک میں بھی اور پاکستان میں بھی اس کے پھیلانے کا کام وقف جدید کے سپر د ہے۔پس ہر احمدی کو اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کا فعال حصہ بننا چاہئے۔چاہے نئے آنے والے ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔اگر مالی قربانیوں کی روح پیدا نہیں ہوتی تو ایمان کی جو مضبوطی ہے وہ پیدا نہیں ہوتی۔کوئی یہ نہ دیکھے کہ معمولی توفیق ہے، غریب آدمی ہوں اس رقم سے کیا فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے جذبے اور خلوص سے دیئے ہوئے ایک پیسے کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔ایسے ہی یہ قربانی کا ذکر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس طرح بھی محفوظ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک معذور اور غریب آدمی تھے حضرت حافظ معین الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ روایت میں آتا ہے ان کی طبیعت میں بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلے کی خدمت کے لئے قربانی کریں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے اور بوجہ معذور ہونے کے کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک پرانا خادم سمجھ کر لوگ محبت و اخلاص کے ساتھ کچھ نہ کچھ تحفہ وغیرہ ان کو دے دیا کرتے تھے۔لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپیہ کو جو ان کو اس طرح لوگوں کی طرف سے تحفہ کے طور پر ملتا تھا ، کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کو سلسلے کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیا کرتے تھے۔اور کبھی کوئی ایسی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو چاہے وہ ایک پیسہ ڈال کر حصہ لیتے۔کیونکہ جو ذاتی حیثیت تھی اس حیثیت سے جو بھی وہ قربانی کرتے تھے یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی چاہے وہ پیسے کی قربانی تھی۔اس وقت حضرت مسیح