خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 601 of 682

خطبات وقف جدید — Page 601

601 س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔سومردانہ ہمت سے امداد کے لئے بلا توقف قدم اٹھانا چاہئے۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گئے۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 308 اشتہار 4 اکتوبر 1899 ء) پس خدا کی مدددیکھنے کے لئے ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں۔پھر آپ نے فرمایا: تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اُسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجا لائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرہ محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 613 اشتہار ستمبر 1903ء) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام فرماتے ہیں کہ: ” میرے پیارے دوستو ! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک کچی معرفت آپ صاحبوں کی