خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 603 of 682

خطبات وقف جدید — Page 603

603 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کئی دفعہ حافظ صاحب کی خدمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ حافظ صاحب بھوکے رہ کر بھی یہ خدمت کیا کرتے تھے۔اصحاب احمد۔جلد 13 صفحہ 293) پھر ایک اور دو بزرگوں کا نقشہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا ہے۔فرماتے ہیں: دو میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندے میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبد العزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر یہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔(ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-314) جہاں یہ مثالیں غریب اور نئے آنے والے احمدیوں کو توجہ دلانے کے لئے ہیں وہاں جو اچھے کھاتے پیتے احمدی ہیں ان کے لئے بھی سوچ کا مقام ہے، ان کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ دیکھیں کہ کیا وہ جو مالی قربانی کر رہے ہیں کبھی انہیں یہ احساس ہوا کہ واقعی یہ قربانی ہے۔غریب آدمی تو بیچارہ اپنا پیٹ کاٹ کر چندہ دیتا ہے لیکن امراء اس نسبت سے دیتے ہیں کہ نہیں۔اور اگر چندہ دینے کے بعد بھی کبھی احساس نہیں پیدا ہوا کہ کسی قسم کی قربانی کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں بہت گنجائش موجود ہے۔جیسے میں نے بتایا کہ وقف جدید کی تحریک حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع فرمائی تھی اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: دومیں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگا ئیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندے میں حصہ نہ لئے“۔الفضل ربوہ 17 فروری 1960ء) پس گزشتہ چند سالوں میں بھارت اور پاکستان میں، گو تھوڑی تعداد میں نئے آئے ہیں مگر افریقہ