خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 587 of 682

خطبات وقف جدید — Page 587

587 حضرت الی الست الخامس د الله: س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہوگا۔( اور فرمایا کہ یہ اس لئے ) اور زیادہ وہ قابل تعریف اس سے بھی ہیں کہ ابھی وہ ایک کام میں سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اپنے عیال کی بھی چنداں پرواہ نہ رکھ کر بالکل پرواہ نہیں رکھی ) یہ چندہ پیش کر دیا۔( فرمایا ) دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے، میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سور و پیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کیلئے دوسور و پیہ چندہ بھیج دیا ہے۔اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد 50 روپے سے زیادہ نہ ہو ( لیکن 2 سوروپے چندہ دے دیا) انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ چونکہ ایام قحط ہیں اور دنیاوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں۔اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا۔(حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ) اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔“ پھر فرمایا۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 423،422 اشتہار یکم جولائی 1900ء) جسی فی اللہ میاں عبدالحق خلف عبدالسمیع ( صاحب ) یہ ایک اول درجہ کا مخلص اور سچا ہمدرد اور محض اللہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔دین کو ابتدا سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔( دسواں حصہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا ) فطوبى للغرباء۔میاں عبدالحق با وجود اپنے افلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض اللہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں يُؤْثِرُونَ عَلَى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر : 10) މ 66 (ازالہ اوبام۔روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 537) ( یعنی با وجود تنگی در پیش ہونے کے بھی اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔)