خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 586 of 682

خطبات وقف جدید — Page 586

586 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز مباہلہ کے بعد اس درویش خانہ کے کثرت مصارف کو دیکھ کر اپنی تھوڑی تھوڑی تنخواہوں میں سے اس کے لئے حصہ مقرر کر دیا ہے۔چنانچہ میرے مخلص دوست منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور تنخواہ میں سے تیسرا حصہ یعنی 20 روپے ماہوار دیتے ہیں۔66 (ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 312-313 بقیہ حاشیہ) اس زمانے میں وہ بڑی چیز تھی۔تو دیکھیں اپنے پر تنگی کر کے قربانیاں کرنے کا جو طریق ہے وہ جاری کیا۔وہ نمونے قائم کئے جو آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں تھے۔پھر ایک اور ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔( آج انکی اولادمیں لاکھوں میں کھیل رہی ہیں) سرگرمی میں ماہواری چندہ میں شریک ہیں ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا۔( یعنی اتنی طاقت نہیں تھی اب کاروبار نہیں تھا۔اس کے باوجود کہتے ہیں ایک دن میں مجھے ایک سو روپیہ دے گیا) کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے ( یہ کہنے لگا۔“ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہوگا۔مگر لہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔“ (ضمیمہ انجام آنقم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-314 بقیہ حاشیہ) جب منارة المسح کی تعمیر ہونے لگی تھی اسوقت کا ذکر ہے۔فرمایا:۔ان دنوں میں میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔جو باقی دوستوں کے لئے درحقیقت جائے رشک ہیں۔ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں ، جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کیلئے چندہ دیا ہے۔(جن کا پہلے ذکر آیا ہے )