خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 588 of 682

خطبات وقف جدید — Page 588

588 س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت خلیل اس ال اس د الله: ها تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ہیں جن کی ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے ، ان شبنم کے قطروں سے ، درخت پھلوں سے لدے رہتے تھے۔ان کے اعمال کے درخت بھی پھلدار رہتے تھے۔اور جماعت بھی ان قربانیوں کی وجہ سے پھلوں سے لدی رہتی تھی۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری لکھتے ہیں کہ : جن مخلص احباب نے لنگر خانے کے واسطے فوراً امداد بھیجی ان میں ایک شخص چوہدری عبد العزیز صاحب احمدی پٹواری بھی تھے۔( ان کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے ) جوخود آپ گورداسپور آئے اور آریہ کے مکان میں جبکہ حضرت احمد اوپر سے نیچے اتر رہے تھے۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہے ) زینے میں نصف راہ میں ملے اور ہاتھ سے اپنی کمر سے ایک سور و پیہ چاندی کے کھول کر پیش کئے۔( یہ وہی واقعہ ہے، اس کی ذرا تفصیل ہے یا پہلے واقعہ کا جہاں حضرت مسیح موعود نے ذکر فرمایا ہے وہ ہو گا۔) کہ حضور کا خط آیا اور خاکسار کے پاس یہی رقم موجود تھی جو بطور امداد لنگر پیش کر رہا ہوں۔قاضی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے ایک پٹواری کے جوان دنوں صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا۔ان کی صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ تھی۔اور سورو پہیہ چندہ دے رہے ہیں۔اس ایثار پر رشک آیا۔خدا تعالیٰ نے اس کے اخلاص کے عوض اس پر بڑے فضل کئے۔(رسالہ ظہور احمد موعود صفحه 72 مطبوعہ 30 جنوری 1955ء) تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے نمونے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے پر تنگی وارد کیا کرتے تھے اور تنگی وارد کر کے قربانیاں دیا کرتے تھے۔پھر حضرت قاضی یوسف صاحب ایک اور ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : میرے پہلے قیام گورداسپور میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت احمد سے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ) عرض کی حضور لنگری کہتا ہے کہ لنگر کا خرچ ختم ہو گیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ بعض مخلص احباب کو متوجہ کیا جاوے چند مخلص افراد کو امداد نگر کے واسطے خطوط لکھے گئے اور کئی مخلصوں کے جواب اور رقوم آئیں۔کہتے کہ ان میں سے ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے کہ وزیر آباد کے شیخ خاندان نے جو مخلص احمدی تھے ان کا ایک پسر نوجوان خط ملتے وقت طاعون سے فوت ہوا تھا۔اس خاندان کا نوجوان لڑکا اس طاعون سے فوت ہوا تھا اور اس کے کفن دفن کے واسطے مبلغ دوسور و پے بغرض اخراجات اس کے پاس موجود تھے۔اس نے اسی وقت (اس لڑکے کے باپ نے ) ایک خط حضرت مسیح موعود کو لکھا اور یہ خط ایک سبز کاغذ پر تحریر تھا اور اس کے عنوان میں یہ لکھا کہ اے خوشا مال کہ قربانِ مسیحا