خطبات وقف جدید — Page 49
49 حضرت مصلح موعود خطبہ عید الفطر فرموده 21 اپریل 1958ء بمقام ربوہ) سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کچھ دن ہوئے میں نے رویاء میں دیکھا کہ ایک مجلس ہے اور بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔میں ان میں بڑھتا چلا جاتا ہوں چلتے چلتے میں نے دیکھا کہ آگے قاضی ظہور الدین صاحب اکمل بیٹھے ہوئے ہیں اور میں ان کے پاس سے ہو کے گزرا ہوں۔میں نے اس کی یہ تشریح کی کہ الدین“ سے مراد اسلام ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران: 20 ) پس اس لحاظ سے ظہور الدین اکمل کے یہ معنے ہونگے کہ ظہور الاسلام اکمل یعنی خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں کامل طور پر غالب کرے۔یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عید کے دن جب کہ سب لوگ اپنے اپنے دوستوں کو تحفے دیتے ہیں اس غریب جماعت کو یہ تحفہ دے کہ اس کے ہاتھوں سے اسلام کو دنیا پر غالب کرے اور کامل طور پر غالب کرے یہاں تک کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کو رسول کریم ﷺ کو اور اسلام کو بُرا کہنے والا کوئی باقی نہ رہے۔تمام کے تمام ایمان لانے والے ہوں اور اپنے ایمان اور اخلاص کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی توحید اور خدا تعالیٰ کی شان کے بڑھانے اور اسے پھیلانے والے ہوں۔صلى الله پھر چند روز ہوئے۔میں نے دیکھا کہ میں ایک مجلس میں بیٹھا تقریر کر رہا ہوں ذہن میں تو نہیں مگر وہ ایسا ہی مجمع ہے جیسے عید کا مجمع ہوتا ہے اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ دیکھو گو اس وقت تلوار کا جہاد نہیں ہے مگر تبلیغ کا جہاد ہے جو تلوار کے جہاد سے زیادہ آسان ہے تم رسول کریم ﷺ کے صحابہ کو دیکھو کہ انھوں نے ایمان لانے کے بعد ایسا اخلاص دکھایا کہ یا تو وہ اتنے بتوں کو پوجتے تھے کہ ہر دن میں ایک ایک بت آجا تا تھا اور یا پھر وہ تو حید کا جھنڈا اٹھا کر دنیا میں نکل گئے اور اس کے کناروں تک پھیل گئے انھوں نے ایران فتح کیا، عرب فتح کیا، افغانستان فتح کیا اور پھر سندھ کے ذریعہ سے ہندوستان فتح کیا پھر مصر فتح کیا پھر تیونس اور مراکش فتح کیا پھر ہسپانیہ فتح کیا پھر تاریخوں سے ثابت ہے اور بعض آثار قدیمہ بھی ایسے ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں میں سے بعض جہازوں پر بیٹھ کر امریکہ چلے گئے جہاں اب تک بھی ایک پرانی مسجد باقی ہے اور کولمبس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ میں نے جو امریکہ دریافت کیا ہے تو