خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 50 of 682

خطبات وقف جدید — Page 50

50 حضرت مصلح موعود اس کی اصل تحریک مجھے ایک مسلمان بزرگ کی تحریر سے ہوئی ہے اس کا اشارہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کی طرف تھا انھوں نے اپنی کتاب ” فتوحات مکیہ میں لکھا ہے کہ میں نے مغرب کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ اس سمندر کے پرے ایک اور ملک بھی ہے۔چنانچہ جب لوگوں نے کولمبس پر اعتراض کیا اور بادشاہ نے اسکوروپیہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تجھے وہم ہو گیا ہے اور تو پاگل ہے تو اس نے کہا نہیں میں نے یہ بات ایسے لوگوں سے سنی ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے یعنی مسلمانوں سے اور پھر انھوں نے بھی یہ بات اپنے ایک بہت بڑے بزرگ کے حوالہ سے کہی ہے اس لئے میں ضرور کامیاب ہوں گا اگر نا کام وا پس آیا تو آپ کا اختیار ہے کہ جو چاہیں مجھے سزا دیں۔آخر ملکہ نے اپنے زیور بیچ کر اس کے لئے روپیہ مہیا کیا۔پادری اس وقت اتنے احمق تھے کہ ایک پادری نے دربار میں تقریر کی کہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے اور عیسائیت کے خلاف تقریریں کرتا ہے۔اس وقت پادریوں کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے گول نہیں۔اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر زمین گول ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی علاقہ ایسا بھی ہے جہاں انسانوں کا سر نیچے ہوتا ہے اور ٹانگیں اوپر اور بارش بھی اوپر سے نیچے نہیں ہوتی بلکہ نیچے سے اوپر ہوتی ہے اولے بھی نیچے سے اوپر گرتے ہیں اور یہ ساری حماقت کی باتیں ہیں لیکن آخر وہی کامیاب ہوا۔غرض میں نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو رسول کریم ﷺ کے صحابہ یا تو اتنے کمزور اور نا طاقت تھے کہ سارے عرب میں دس ایرانیوں یا دس رومیوں کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی اور یا وہ دن آیا کہ وہ اسلام کے سیاہ جھنڈے ہاتھوں میں لے کر نکلے اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئے اور رسول کریم نے کی وفات پر ابھی پندرہ سال کا عرصہ ہی گذرا تھا کہ مسلمان ہندوستان اور چین تک جا پہنچے۔تم کو بھی چاہئے کہ چھوٹے چھوٹے سیاہ جھنڈے بنا لو اور وقف جدید کے جو مجاہد ہیں وہ دنیا میں پھیل جائیں اور اسلام کا جھنڈا ہر جگہ گاڑ دیں یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور گو یہ حکومت سیاسی نہیں ہو گی بلکہ دینی اور مذہبی ہوگی کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو پڑھائیں گے اور علاج معالجہ کریں گے اور دین سکھائیں گے مگر پھر بھی ان کے ذریعہ اسلام کا ایک نشان قائم رہے گا۔دیکھ لو بعض علاقے ایسے ہیں جواب تک بھی رہائش کے قابل نہیں لیکن حکومتوں نے ابھی سے وہاں اپنے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں تا کہ جب کبھی بھی وہاں آبادی کی صورت پیدا ہو تو ان کا حق قائم رہے چنانچہ بحر منجمد جنوبی کے قریب ایک جہاز اتفاقاً روس کا پہنچ گیا پھر جاپان کا ایک جہاز پہنچ گیا پھر ڈچ کا پہنچ گیا پھر امریکہ کا پہنچ گیا۔ان چاروں حکومتوں کے آدمی جب وہاں برف کے تو دوں پر پہنچے تو انھوں نے وہاں اپنے اپنے ملک کا جھنڈا گاڑ دیا۔اب چاروں حکومتیں اس علاقہ کی ملکیت کی مدعی ہیں امریکہ کہتا ہے بحر منجمد جنوبی ہمارا ہے اور اس کے اندر جو