خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 487 of 682

خطبات وقف جدید — Page 487

487 حضرت خلیفہ مسیح الرابع نہیں تھے انکے، تو امریکہ کی طرح ہندوستان کو بھی خدا تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی بہت توفیق عطا فرما رہا ہے۔انڈونیشیا میں سمجھتا ہوں ابھی اپنی توفیق سے پیچھے ہے کیونکہ ہندوستان کے مقابل پر انڈونیشیا کے احمدیوں کے مالی حالات بہت بہتر ہیں۔تعداد کے لحاظ سے جو فرق پڑا ہے وہ ہندوستان کی تبلیغ کے نتیجے میں فرق پڑا ہے ورنہ پہلے تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ فرق نہیں تھا۔تقریباً انڈونیشیا کی جماعتیں ہندوستان کی تعداد کے مقابل پر نصف تھیں بلکہ نصف سے کچھ زیادہ اور چندوں میں اتنا فرق کہ وقف جدید میں ہندوستان نے ساڑھے چوبیس ہزار پاؤنڈ پیش کئے ، انڈونیشیا نے صرف آٹھ ہزار چھ سو نوے۔تو یہ صاف پتہ چل رہا ہے کہ وہاں ابھی تک ہمارے نظام جماعت میں پوری بیداری نہیں اور پورا انتظام نہیں ہے ورنہ امریکہ یا ہندوستان کے مقابل پر انڈونیشیا کی جماعت کے اخلاص کی حالت پیچھے نہیں ہے۔بعض دفعہ تو لگتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ دنیا میں مخلص ہیں اس قدرسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت اور اسلام سے محبت رکھنے والے لوگ ہیں کہ بہت سے ہیں ان میں جو ذ کر کے ساتھ ہی رونے لگتے ہیں، ان کی آنکھوں سے بے اختیار محبت کے آنسو بہنے لگتے ہیں۔تو جہاں اخلاص موجود ہو وہاں اگر قربانی میں لوگ پیچھے رہ رہے ہوں تو یقین جانیں کہ انتظامیہ کی خرابی ہوا کرتی ہے۔ایسے علاقوں میں جہاں بھی میں نے انتظامیہ بدلائی ہے اور ان کو توجہ دلائی ہے تو فوری طور پر جماعت نے اپنی قربانیوں کو بہت آگے بڑھا دیا۔پس اس پہلو سے امریکہ کی انتظامیہ بھی دعا کی مستحق ہے، اس معنی میں جزا کی مستحق کہ ہم بھی ان کے لئے دعا کریں کہ انھوں نے اپنے انتظام کو بہت بہتر بنالیا اور جماعت کے اخلاص کو جو موجود تھا اس کو اب اس راہ میں گویا جیسے جوت دیا جائے اس طرح اخلاص کو پہلے سے بڑھ کر جوتا جا رہا ہے۔ماریشس اپنی تعداد کے لحاظ سے قربانی میں ہمیشہ بہتر ہوتا ہے مگر امسال وقف جدید میں اتنی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی کیونکہ یجم جو اس کے مقابل پر ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ابھی نئی نئی بن رہی ہے گویا کہ ماریشس اور جسم کا چندہ تقریباً برابر ہے۔ماریشس کا چار ہزار نوسوسترہ اور تجسم کا چار ہزار آٹھ سو سینتیں۔ناروے جو چھوٹے ممالک میں سے آگے بڑھنے والا ایک ملک ہے۔ناروے خدا کے فضل سے چار ہزار چھ سو بانوے پاؤنڈ چندہ وقف جدید میں دے کر دسویں نمبر پر رہا ہے۔فی کس مالی قربانی کے لحاظ سے بھی باوجود اس کے کہ امریکہ میں چندہ دہندگان کی تعداد بہت بڑھائی گئی ہے، بہت بڑھائی گئی ہے اس دفعہ۔پھر بھی مالی قربانی کو اگر تقسیم کیا جائے فی چندہ دہندہ تو امریکہ باقی سب ملکوں سے آگے نکل گیا ہے۔اس سے پہلے جاپان اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان بات رہا کرتی تھی۔