خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 488 of 682

خطبات وقف جدید — Page 488

488 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع شروع میں جاپان آگے تھا پھر سوئٹزر لینڈ نے وہ جگہ لے لی اور گزشتہ دو چار سال سے سوئٹزر لینڈ نے قبضہ کیا ہوا تھا کہ فی کس چندہ دہندہ قربانی میں ہم دنیا میں کسی کو آگے نکلنے نہیں دیں گے اور اب دیکھیں کتنا فرق پڑ گیا ہے۔امریکہ میں فی کس قربانی کا معیار اب ایک سوچو میں پاؤنڈ اور سات پینی بنتا ہے۔اور سوئٹزر لینڈ میں ستر پاؤنڈ ستانوے پینی۔تو اس پہلو سے بھی بہت آگے بڑھ گیا ہے خدا کے فضل سے امریکہ فی کس چندہ دہندہ کی مالی قربانی کے لحاظ سے۔اور جاپان اکتیس پاؤنڈ تھیں پینی کے چندے کے ذریعے نمبر تین پر آیا ہے اور یحکیم اللہ کے فضل کے ساتھ انیس پاؤنڈ تینتالیس پینی دے کر چوتھی پوزیشن حاصل کر گیا ہے اور جرمنی پانچویں پوزیشن پر گیارہ پاؤنڈ پچاس پینی فی کس کے لحاظ سے دیکر اللہ کے فضل سے اعزاز حاصل کر گیا۔لیکن جرمنی کے متعلق میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ خدا کے فضل سے انکے چندے اتنے متوازن ہیں اور بالعموم مالی قربانی میں ساری جماعت کثرت سے حصہ لے رہی ہے اس لئے وہاں یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک ہی تحریک میں غیر معمولی طور پر آگے نکل جائیں۔جن ممالک نے مثلاً امریکہ نے اپنے لئے یہ ایک ٹارگٹ پہلے سے بنارکھا تھا کہ دنیا میں ایک چندے میں تو ہم نے باقی سب کو لازماً پیچھے چھوڑنا ہے، اس اخلاص کی نیت کو خدا نے یہ پھل دیا ہے کہ وہ اتنا آگے نکل گئے کہ انکے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنا آگے جاسکتے ہیں۔مگر جرمنی کو یہ کہنا کہ تم وقف جدید میں بھی ان سے مقابلہ کر کے آگے نکلنے کی کوشش کرو یہ میرے نزدیک مناسب مطالبہ نہیں ہے کیونکہ عموماً جرمنی کی جماعت اتنی بڑی قربانی دے رہی ہے کہ اس کی وجہ سے خدا کے فضل سے بہت سے دوسرے ممالک کی ضروریات پوری ہورہی ہیں اور جرمنی میں بھی جو بڑھتی ہوئی ضروریات ہیں ان میں جرمنی خود کفیل ہے۔بالغان کے چندے کی جو دوڑ ہوا کرتی ہے پاکستان کے اندران میں ربوہ خدا کے فضل سے اول رہا ہے۔کراچی دوم اور لاہورسوم۔جہاں تک اضلاع کے مقابلے کا تعلق ہے پاکستان کے اضلاع کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی آپس کی دوڑ میں اب ان کی کیا پوزیشن ہے۔راولپنڈی فرسٹ ہے جو میرے لئے بہت تعجب کی بات ہے کیونکہ میں سمجھا کرتا تھا کہ راولپنڈی ان باتوں میں کافی پیچھے ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نئی تحریک وہاں اٹھی ہے جس کی وجہ سے خدا کے فضل سے راولپنڈی کی جماعت کو یہ اعزاز مل گیا کہ وہ سارے پاکستان میں ضلعی لحاظ سے اول آئی ہے اور سیالکوٹ نمبر دو یہ بھی تعجب کی بات ہے کیونکہ سیالکوٹ تو کافی نکما ہو گیا تھا بے چارہ۔اب معلوم ہوتا ہے اُٹھ رہے ہیں کچھ آگے بڑھ رہے ہیں۔جو سیالکوٹی میرے سامنے بیٹھے ہیں مسکرارہے ہیں کہ شکر ہے ہماری بات بھی آگئی کہیں۔فیصل آباد نمبر تین پر ہے اور اسلام آباد نمبر چار پہ۔اسلام آباد کے لئے قابل شرم ہے کیونکہ بڑی منتظم جماعت اور مالی لحاظ سے بھی اچھی متوسط