خطبات وقف جدید — Page 486
486 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع جاتے ہیں اور اب تو بعض دفعہ لگتا ہے ضرورت سے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن جب سال ختم ہوتا ہے تو ضرورت پھر چندوں سے جاملتی ہے۔تو یہ بھی ایک مسابقت کی دوڑ ہو رہی ہے جماعت کے چندوں اور جماعت کی ضروریات میں۔تو گزشتہ سال وصولی کا جہاں تک تعلق ہے چھ لاکھ ستر ہزارتھی ، دس لاکھ چورانوے ہزار اس دفعہ ہوئی اور تعداد کے لحاظ سے گزشتہ سال ایک لاکھ چھیالیس ہزار چارسو باسٹھ افراد تھے اور امسال ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار چار سوتر انوے افراد ہیں جو شامل ہوئے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ بہت بڑی تعداد، ہزارہا کی تعداد میں ایسے دوست پیدا ہوئے ہیں جن کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا چسکا پڑ گیا ہے کیونکہ جو ایک دفعہ خرچ کرے وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا کرتا ، اس کو واقعہ چسکا پڑ جاتا ہے۔دس سال پہلے میں نے جیسا کہ بیان کیا تھا، امریکہ کا کل بجٹ آٹھ لاکھ پینتیس ہزار تھا اور اب وقف جدید کا بجٹ نو لاکھ چھتیس ہزار آٹھ سو ڈالر ہو چکا ہے اور انھوں نے اتنی احتیاط سے اعداد و شمار اکٹھے کئے ہیں کہ ساتھ تمیں سینٹ بھی لکھا ہوا ہے، نو لاکھ چھتیس ہزار پانچ سو آٹھ ڈالر میں سینٹ۔تو خدا تعالیٰ نے بہت برکت دی ہے جماعت کے اخلاص میں اور کوششوں میں اور صرف ان باتوں ہی میں نہیں باقی بہت سی اور باتوں میں بھی خدا کے فضل سے امریکہ کا قدم ترقی کی طرف ہے اور ہونا بھی ایسا چاہئے تھا کیونکہ امریکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ہے اور وہاں ابھی بھی ایسے احمدی موجود ہیں جن کو اگر آمادہ کیا جائے تو کچھ اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر تو اللہ تعالیٰ ان کے دل کی توفیق بھی بڑھائے گا اور ان کی مالی توفیق اس وقت بھی ان چندوں سے پیچھے ہے کیونکہ اسی قسم کے حالات کے لوگ بکثرت موجود ہیں اور جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو انہی میں سے بعض ایسی حیرت انگیز قربانیاں کرنے والے ابھرے ہیں کہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ توفیق ہوہی نہ اور قربانیاں دے رہے ہوں اور جنھوں نے بھی دیں ان کے مالوں میں کمی کہیں نہیں آئی برکت ہی ہے جو بڑھتی چلی جارہی ہے تو آج امریکہ سب دنیا کی جماعتوں میں صف اوّل پر کھڑا ہے۔اگر پاؤنڈوں میں اس کا حساب کیا جائے تو پانچھ لاکھ چونسٹھ ہزار ایک سوا کسٹھ پاؤنڈ ان کا چندہ وصولی ہے جبکہ باقی سب دنیا کی جماعتوں کی اتنی وصولی نہیں۔دوسرے قدم پر پاکستان ہے اور تیسرے پر جرمنی ہے۔برطانیہ کو چوتھی پوزیشن حاصل ہے جو غالبا ایک عرصے سے چلی آرہی ہے اور کینیڈا کو پانچویں پوزیشن حاصل ہے۔اب برطانیہ اور کینیڈا کا فرق تھوڑا رہ گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس رفتار سے کینیڈا مسلسل برطانیہ کے قریب آرہا ہے بعید نہیں کہ اگلے سال آگے نکل جائے۔ہندوستان چوبیس ہزار پانچ سوستائیس پاؤنڈ وصولی ہے جو ہندوستان کے لحاظ سے بہت تعجب انگیز ہے۔چودہ لاکھ چونسٹھ ہزار روپے انھوں نے دیئے جو ہندوستان کے پرانے زمانوں کے چندوں کے لحاظ سے جو دس سال پہلے کے جو چندے اس میں اتنے بنتے