خطبات وقف جدید — Page 482
۔482 حضرت خلیفہ المسیح الرابع پہلو سے آپ کو مختصر النصیحت یہی ہے کہ جب یہ آپ کو الف سنیں گے اور قربانیوں کی دوسری تحریکیں بھی آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی تو ہمیشہ اللہ کی محبت کو اپنے دل میں پہلا مرتبہ دے کر اور اس کے حوالے سے قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔پھر خدا کے فضل سے آپ کی قربانیوں میں کبھی رخنہ نہیں آئے گا اور بے حد ایسی برکتیں شامل ہو جائیں گی جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے یعنی اجر کریم آپ کو عطا کیا جائے گا۔وقف جدید کا یہ انتالیسواں (39) سال ہے اور یکم جنوری 1997ء سے چالیسویں سال میں داخل ہونے والے ہیں۔رپورٹوں کے معاملے میں گزشتہ سال بھی یہ شکایت تھی کہ بہت سے ممالک ست رفتاری سے رپورٹیں بھجواتے ہیں اور بسا اوقات ایسے ممالک بھی ہوتے ہیں جہاں جدید ترین طریقے رسل و رسائل کے مہیا نہیں ہیں اس لئے جو نسبتاً بعد میں شامل ہونے والے ممالک ہیں ان کی تربیت میں ابھی زیادہ وقت درکار ہے اور ان کے ہاں وقف جدید کا نظام بھی اس طرح جاری نہیں جس طرح پہلے سے شامل ہونے والے ترقی یافتہ ، تربیت یافتہ ممالک میں ہے۔تو اگر چہ اس وقت جماعتوں کی تعداد یعنی ممالک کی تعداد غالباً ایک سو باون یا اس سے اوپر ہو چکی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں سے صرف چھپن کا رپورٹیں بھجوانا بتاتا ہے کہ کتنا بڑا کام ابھی ہم نے کرنا ہے ان کی تربیت کا اور وقف جدید ہی کا ایک یہ مقصد ہے کہ دیہاتی اور نئے غیر تربیت یافتہ ممالک کی تربیت کی جائے۔پس اس پہلو سے یہ جو چالیسواں (40) سال ہے۔اس میں ہم اپنے سامنے ایک کام کا پہاڑ کھڑا ہوا دیکھتے ہیں۔چھین ممالک نے رپورٹ بھیجی ہے اور اکثر جنھوں نے نہیں بھیجی یا تو کام بہت معمولی ہوا ہے یا ابھی وہ تربیت کے محتاج ہیں تو ان چھپن ممالک نے تقریبا ایک سو چھپن کی تربیت کرنی ہے اور یہ جو چندہ ملے گا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہی مقاصد پر خرچ ہو گا۔وقف جدید میں جو بیرون کا چندہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ زیادہ تر ہندوستان اور افریقہ پر خرچ ہوتا ہے ، اور زیادہ تر کیا تمام تر کہنا چاہئے ا ہندوستان اور افریقہ پر خرچ ہوتا ہے یہاں تک کہ پاکستان سے بھی وقف جدید کے چندوں میں جو بچت ہوتی ہے وہ بیرونی ممالک میں خرچ کیلئے بھیجنے لگے ہیں تو یہ سعادت ان کی ابھی بھی قائم ہے کہ بیرونی دنیا پر خرچ کرنے میں کوئی بار محسوس نہیں کرتے۔کوئی کمزوری نہیں پاتے اور بڑے حو صلے اور خوشی کے ساتھ پاکستان سے باہر کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔مغربی دنیا میں بھی اب بہت حد تک یہ صلاحیت پیدا ہوگئی ہے کہ اپنے غریب بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں بہت حو صلے اور وسعت قلب کے ساتھ حصہ لیتے ہیں اور کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ اتنا چندہ ہم نے دیا تھا ہم پر اتنا کیوں خرچ نہیں ہوا، اتنا بڑا حصہ دوسرے ممالک کو کیوں دیا گیا۔یہ