خطبات وقف جدید — Page 483
483 حضرت خلیفہ مسیح الرابع سوچ ہی بیمار سوچ ہے جو احمدیت میں خدا کے فضل سے پینے کی گنجائش ہی نہیں رکھتی ، توفیق ہی نہیں رکھتی۔ایک آدھ ملک میں جب یہ بیماری پیدا ہوئی اور میں نے اسی وقت ان کو پکڑا تو اس کے بعد وہ بالکل اس طرح مٹ گئی جیسے ان کی جڑیں اکھیڑ دی گئی ہوں۔پھر کبھی اس وہم نے ان کے خیالات میں پراگندگی پیدا نہیں کی۔تو اس کو بھی آپ یا درکھ لیں کہ ہمارے چندے خدا کی خاطر ہیں اور یہ ساری دنیا خدا نے پیدا کی ہے۔اسلام عالمگیر مذہب ہے، اسلام کے تقاضے، ضرورت کے تقاضے دنیا میں کہیں بھی پیدا ہوں گے۔پس یہ بحث نہیں ہے کہ چندہ کس نے دیا ہے اور کہاں خرچ ہونا چاہئے ،یعنی کس نے دیا ہے کی بحث نہیں ہے اور یہ بحث نہیں ہے کہ جس نے دیا ہے اسی پر خرچ کیا جائے۔یہ بحث ضرور رہے گی کہ اس وقت عالمی تقاضوں کے لحاظ سے کس ملک کو زیادہ ضرورت ہے اور کون سا ملک ہے جو تیز رفتاری کے ساتھ سچائی کی طرف متوجہ ہو رہا ہے اور اسی نسبت سے اس کی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں۔پس خرچ میں ہمیشہ جماعت احمدیہ نے اس بات کو راہنمارکھا ہے اور یہ بات بے تعلق سمجھی ہے اور ہمیشہ بے تعلق سمجھی جائے گی کہ کس نے زیادہ دیا تھا اور کس نے کم دیا تھا ضرورت جہاں زیادہ ہے وہاں زیادہ خرچ کیا جائے گا اور ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے۔پس اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ بیرونی دنیا کا چندہ پاکستان بنگلہ دیش اور ہندوستان کے چندوں سے اب خدا کے فضل سے بہت بڑھ چکا ہے اور عین اس وقت یہ برکت ملی ہے ، جبکہ ضرورت بہت شدید ہوگئی تھی مثلاً ابھی میں نے افریقہ کے ممالک کا دورہ کروایا ہے تو پتہ چلا کہ بہت بڑی بڑی جماعتیں ہیں جن سے ابھی تک ہمارا ڈش انٹینے کے ذریعے بھی رابطہ نہیں ہوسکا اور جو نمائندے میرے گئے انھوں نے محنت کی بہت دور دراز کے گہرے علاقوں میں گئے اور بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دیکھ کر اس طرح ان کے چہرے چمک اٹھے کہ اچھا ہمارا بھی خیال ہے ان کو۔لیکن ایک خوشکن بات جو سب جگہ دکھائی دی وہ یہ تھی کہ ایسے علاقے جن میں کثرت سے بیعتیں ہوئی تھیں اور دو تین سال پہلے ہوئی تھیں جب وہاں رابطہ کیا گیا تو تمام تر احمدیت پر قائم تھے اور بڑے خلوص سے قائم تھے اور انھوں نے کھلم کھلا یہ کہا کہ ہم نے تو سچ سمجھ کر قبول کیا ہے اگر آپ ہماری طرف توجہ نہ بھی کرتے تو احمدیت پر ہم نے قائم ہی رہنا تھا مگر ہمیں پورا پتہ ہی نہیں کہ احمد بیت ہے کیا۔تفاصیل کا علم نہیں ہے اس لئے آپ کا فرض تھا ہمیں پوچھتے اور ہماری ضروریات پوری کرتے چنانچہ ان سب جگہوں میں ایک تو میں نے یہ ہدایت کی کہ ڈش انٹیناز لگائے جائیں کثرت کے ساتھ اور مرکزی انتظام کے تابع روزانہ اس علاقے کے باشندے ایک جگہ اکٹھے ہوسکیں اور دوسرا یہ کہ وہاں ان کے لئے بڑی مساجد بنی چاہئیں۔ایسے مراکز بنے چاہئیں جہاں ان کی تربیت کا انتظام ہو اور انہی میں سے مبلغین بنائے جائیں اور پھر ان کو انہی علاقوں میں مستقل جگہوں پر مقرر کر دیا جائے یہ ضرورتیں جو ہیں