خطبات وقف جدید — Page 478
478 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ضرورتیں ان کے چندے کی صلاحیت کے مقابل پر بہت زیادہ ہیں۔اسی طرح افریقہ کی جماعتیں چونکہ بیشتر غریب ہیں نہ وہ پوری طرح اپنے چندوں میں خود کفیل ہیں نہ وقف جدید کی طرز کا نظام وہاں جاری کرنے سے یا وقف جدید کی نہج پر انکی تعلیم و تربیت کرنے کے لئے ہمارے پاس وہاں کوئی ایسے ذرائع مہیا ہیں کہ ہم ملکی طور پر ہی ان ضرورتوں کو پورا کرسکیں اس لئے میں نے یہ تحریک کی کہ مغربی ممالک بالخصوص اور بیرونی ممالک بالعموم اس تحریک میں شامل ہو جائیں اور محض پاکستان ہی کو یہ اعزاز نہ رہے کہ وہ اکیلا یا ہندوستان اور پاکستان دونوں یا بنگلہ دیش یہ تینوں دراصل کہنے چاہئیں تھے مجھے ، کہ ان تینوں میں یہ اعزاز نہ رہے کہ یہ تو ایک ایسی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں جو خالصہ للہ ایک عظیم مقصد کے لئے قائم کی گئی اور باقی جماعتیں دنیا کی محروم رہ گئی ہیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ مجھ پر یہ امر واضح نہیں تھا کہ کوئی حقیقی ضرورت ایسی اُبھری ہے جس کو پورا کرنے کے لئے یہ تحریک کی جائے اور اندازہ تھا کہ یہ ضرورتیں بڑھ رہی ہیں اس لئے آمد کے ذرائع بھی بڑھنے چاہئیں لیکن بعد کے حالات سے پتہ چلا کہ یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سے تحریک دل میں ڈالی گئی تھی کیونکہ اچانک تبلیغ میں ایسی سرعت پیدا ہو گئی اور دنیا کا رجحان احمدیت کی طرف اس تیزی سے بڑھنے لگا کہ ان کو تبلیغ کرنے کا تو الگ مسئلہ، ان کی تربیتی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لئے بہت بڑی مالی ضروریات در پیش تھیں۔کیونکہ انہی میں سے مبلغ نکالنا ، ان کی تربیت کے سامان کرنا ، ان کو جگہ جگہ جلسوں کے ذریعہ اور تربیتی کلاسز کے ذریعہ اس دین کی تفصیل سمجھانا جس کو عموماً بغیر سمجھے عامتہ الناس قبول کرتے ہیں اور یہ معاملہ صرف احمدیت کے لئے خاص نہیں دنیا کے ہر مذہب کا یہی حال ہے۔عامتہ الناس عموماً ایک عقیدے کو تسلیم کر لیتے ہیں بعض نشانات کو دیکھ کر بعض رجحانات کو دیکھ کر اور بعض دفعہ آسمان سے ایسے تائیدی نشانات ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں جن کو دیکھنے سے وہ یقین کر لیتے ہیں کہ یہ سچا سلسلہ ہے مگر اس کے عقائد کی تفصیل ، اس پر عمل کرنے کے جو طریق ہیں ان سے بسا اوقات نا واقف رہتے ہیں۔اسی لئے قرآنِ کریم نے وہ نظام جاری فرمایا کہ اپنے مرکز میں پہلے مختلف قوموں کے نمائندوں کو بلا ؤ جو مسلمان ہو چکے ہیں، ان کو بلاؤ ، ان کو وہاں ٹھہراؤ ، انکی تعلیم و تربیت کرو اور پھر واپس بھیجوتا کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر جا کر خدمت دین کا کام بہتر طریق پر سر انجام دے سکیں۔یہ ضروریات تھیں جن کے لئے خدا تعالیٰ نے مغربی جماعتوں کو یعنی آزاد ایسے ملکوں کو جو نسبتاً ترقی یافتہ ہیں ان کو بھی اس تحریک میں شمولیت کی توفیق بخشی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بہت ہی اعلیٰ پھل ہمیں دکھائے اور ایسے جن کا ہمارے ذہن میں کہیں دور کے گوشوں میں بھی کوئی تصور نہیں تھا۔لیکن اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں قرآن کریم کی ان آیات کا