خطبات وقف جدید — Page 477
477 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرمائی: خطبه جمعه فرموده 27 دسمبر 1996 ء بیت الفضل لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ الحدید کی درج ذیل آیات کی تلاوت اِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقتِ وَاَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ O وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِةٍ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ط لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ط وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ 0 (الحدید : 19-20) آج کا خطبہ جیسا کہ میں نے کل ہندوستان کے جلسے کے ابتدائی خطاب میں ذکر کیا تھا وقف جدید کے مضمون کے لئے وقف ہے۔پرانا دستور یہی چلا آرہا ہے کہ یا تو سال کے آخری خطبے میں وقف جدید کےسال نو کا آغاز ہوتا ہے یا اس سے آئندہ سال کے آغاز میں پہلے خطبے میں۔جب میں ہندوستان گیا تھا تو یہی تاریخ تھی یہی دن جب میں نے وہاں 1991ء میں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔اب یہ دونوں جلسے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عجیب تصرف ہے کہ وہی دن ہیں اور وہی تاریخیں ہیں اور جو بھی برکتیں ان میں مضمر ہونگی وہ ہماری وہمی نہیں بلکہ عملاً اللہ تعالیٰ ان برکتوں کو دکھائے گا تو ہمارا یقین اور ایمان خدا تعالیٰ پہ اور بھی زیادہ جلا پائے گا۔وقف جدید کی تحریک کا آغاز تو 1958 ء سے ہے یا 57 ء کے آخر سے اور اس پہلو سے ایک لمبے زمانے سے یہ تحریک چلی آرہی ہے مگر بیرونِ پاکستان چندوں کے لحاظ سے اسے ممتد کرنے کا آغاز چند سال پہلے ہوا جب میں نے یہ تحریک کی تو اس وقت میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی ضرورتیں پیدا ہونے والی ہیں کیونکہ تبلیغ جاری تو تھی مگر دھیمی دھیمی اور اس میں وہ نئی حرکت اور نئی سرعت پیدا نہیں ہوئی تھی جواب اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہو چکی ہے اور تبلیغ ہی کے تقاضے ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے نئے مالی تقاضے اُبھرے اور اس کی وجہ سے عام چندوں تک محدود رہتے ہوئے وہ ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتی تھیں۔مثلاً وقف جدید کے تعلق میں میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کی جماعتیں چونکہ ابھی غریب ہیں اور تقسیم کے بعد ان کو بہت بڑا دھکا لگا تھا جس سے ابھی تک وہ سنبھلی نہیں اس لئے وہاں کی وقف جدید کی