خطبات وقف جدید — Page 461
461 حضرت خلیفة المسیح الرابع تمہارا بہت گہرا نقصان ہو گا ایک تو یہ کہ تحفہ نا مقبول دوسرے تم یہ ہمیں نمونہ دکھا رہے ہو گے کہ ہم تو گندی چیزیں دیا کرتے ہیں۔ہمیں بھی پھر گندی ملنی چاہیے اور احسان فراموش کو تو حقیقت میں کچھ بھی نہیں ملا کرتا تو خدا نے اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے تو نہیں مانگا خدا نے تو ہماری ضرورتیں پوری کرنے کیلئے مانگا ہے اور یہ ضرورتیں دو طرح سے پوری ہوتی ہیں۔اول تزکیہ نفس ، دوسرے احسان کا بدلہ اتارنے کی جو تمنا ہے وہ کچھ نہ کچھ پوری ہو جاتی ہے۔بسا اوقات عید پر بچے بھی ماں باپ کیلئے تھے لے کر آتے ہیں حالانکہ سب کچھ وہی دیتے ہیں انہی سے وظیفے ملتے ہیں، انہی سے ماہانہ اخراجات عطا ہوتے ہیں انہی کا کھانا کھاتے ہیں انہی کے گھر میں رہتے ہیں مگر جب وہ عید یا کسی اور ایسے موقع پر تحفہ پیش کرتے ہیں تو ماں باپ کا دل خوشیوں سے اچھلنے لگتا ہے۔اس تحفے کو جو پیار اور محبت سے سجا کر پیش کرتے ہیں وہ قبول کرتے ہیں جیسے ان کو ایک دنیا جہان کی نعمت مل گئی ہو تو یہ محبت کے سلسلے اور ہیں ان کا نظام اور ہے ان کے قوانین مختلف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے جب ہم تجھ سے مانگتے ہیں تو ایک پیار کا اظہار ہے تا کہ تمہیں بھی محبت کے سلیقے آئیں تا کہ تمہاری بھی یہ خواہش پوری ہو کہ جس نے ہمیں سب کچھ دیا ہے کبھی ہم بھی تو اسے کچھ دیں۔اگر خدا نے یہ نظام نہ قائم کیا ہوتا تو ناممکن تھا کہ انسان اس تمنا کو جو اس کی فطرت میں گھول دی گئی ہے کبھی کسی پہلو سے بھی پوری کر سکتا مگر ماں باپ کے تعلق میں جب انسان یہ کر دیتا ہے اور لذت و خوشی محسوس کرتا ہے تو خدا کے تعلق میں بھی اگر ایسا رشتہ نہ ہو اور ایسی خوشی انفاق سبیل اللہ کے ساتھ وابستہ نہ ہو تو انفاق سبیل اللہ یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنا ضائع ہو جائے گا۔خدا کو نہیں پہنچ سکتا۔اس مضمون کو یوں اس مثال کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جو تم کماتے ہو اس میں سے بہترین چیز پیش کیا کرووَ مِمَّا اَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ اور اس میں سے جو زمین میں ہم نے تمہارے لئے اُگایا ہے۔اب اسکے علاوہ دوسری آیات میں اور اس آیت کی طرز بیان میں ایک تھوڑا سا فرق رکھ دیا گیا ہے جو ابتدائی آیت ہے جس میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو کچھ ہم انہیں عطا کرتے ہیں اس میں سے وہ دیتے ہیں اور یہاں فرمایا ہے۔مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ جوتم کماتے ہو اس میں سے بہترین دو۔یہ اسلئے کہ انسان کے ضمیر کی پیاس بجھے اس کو وقتی طور پر یہ خیال آئے کہ جو میں نے کمایا ہے اس میں سے دے رہا ہوں۔مگر اس جاہلانہ خیال کی نفی کرنے کیلئے کہ جو تم نے کمایا ہے گویا تم ہی گھر سے لے کر آئے ہو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ زمین اُگاتی ہے وہ ہم ہی تو اُگاتے ہیں۔عطا کا آغا ز ہم سے ہے مگر پھر بھی تم نے محنت میں حصہ لیا ہے محنت کر کے اس میں حصہ ڈال لیا ہے تو ہم کہتے