خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 460 of 682

خطبات وقف جدید — Page 460

460 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خطبه جمعه فرموده /5 / جنوری 1996 ء بیت الفضل لندن تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ ص وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِالْخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيْهِ طَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ الشَّيْطنُ يَعِدُ كُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمُ بِالْفَحْشَاءِ ، وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ لا يُؤتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًاط وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْألْبَاب 0 (البقرة: 268 تا270) یہ آیات کریمہ جن کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورہ بقرہ کی 268 تا270 ویں آیات ہیں ان آیات میں مالی قربانی کی طرف بہت ہی لطیف انداز میں اس طرح توجہ دلائی ہے کہ انسانی فطرت کی ایک کمزوری کو سامنے رکھ کر متنبہ فرمایا ہے کہ خدا کی راہ میں جب خرچ کرنے ہوں تو اپنی اس کمزوری کو پیش نظر رکھنا اور خرچ کرتے وقت ٹھو کر نہ کھا جانا تمہیں علم ہونا چاہیے کہ تم جو بھی خرچ کرتے ہو کس مقصد سے کر رہے ہو کس کے حضور پیش کر رہے ہو اور اس کے آداب کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا لازم ہے۔یہ مضمون اس طرح بیان فرمایا کہ دیکھو جب تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو تو اے ایمان والو طیبات میں سے خرچ کیا کرو مَا كَسَبْتُم “ جو کچھ بھی تم کماتے ہوان میں سے بہترین چیز پیش کیا کرو۔کیونکہ جب ایک دوسرے کو تم تحائف پیش کرتے ہو تو جتنا کسی سے زیادہ تعلق ہو، جتنا کسی کی عزت ہو، جتنا کسی کا احترام ہواسی قدر تحفہ چنتے وقت انسان اپنی ملکیت میں سے بہترین چتا ہے۔اگر باغوں والا ہے تو پھل وہ چنے گا جو چوٹی کا پھل ہے اور تاجروں کی طرح نہیں کرتا کہ گندہ پھل شامل کر کے تو اوپر دو چار پھل رکھ دے تا کہ اچھی چیز قبول ہو جائے ، قیمت مل جائے خواہ بعد میں پتہ چلے کہ یہ تو نہایت ہی گندی اور غلیظ چیز تھی جس کا سودا کیا گیا ہے تو اللہ سے تو دھو کہ ہو نہیں سکتا۔لیکن دنیا میں بھی انسان اپنی محبتوں اور تعلقات کی قدر کرتا ہے اور اپنے پیاروں سے دھو کے نہیں کیا کرتا۔تاجر دھو کے کرتا ہے، محبت کے ساتھ پیش کرنے والا دھوکہ نہیں کرتا تو فرمایا تمہارا تو میرے ساتھ ایک محبت کا سودا ہے۔اور دوسرے یہ کہ ہم نے تمہیں دیا ہے۔اسلئے جب ہم نے دیا ہے تو پھر اگر تم گندی چیز دو گے تو