خطبات وقف جدید — Page 462
462 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ہیں تم اپنی محنت سمجھو اور اپنی محنت میں سے جو بہتر حصہ ہے وہ ہمارے حضور تحفے کے طور پر پیش کرو اور یہ نہ کرناوَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ جو پلید چیز ہے جو خبیث اور گندی چیز ہے وہ نہ نکالا کرنا ہمارے نام پر۔کیونکہ وہ نکالو گے تو تمہارا خبیث باطن ہی نکلے گا اور کوئی خبیث اور پلید چیز خدا کو نہیں پہنچ سکتی۔وہ چٹی بھی ہے تو ذلیل قسم کی چھٹی پڑ گئی ہے تم پر۔اور اللہ کو ایسی قربانیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور پہچان یہ رکھ دی کہ وہ چیزیں خدا کو مقبول نہیں ہیں جو تم تُنفِقُونَ جب تم خرچ کرتے ہو تو اگر وہ چیزیں تمہیں عطا ہوں تو تمہاری آنکھیں شرم سے جھک جائیں۔وَلَا تَيَمَّمُوَ الخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وہ چیزیں پلید نہ پیش کرو جو تم دیتے ہو خرچ کے طور پر۔وَلَسْتُمُ باخذیہ لیکن جب لینا پڑے تو ایسی پلید چیز قبول نہیں کرتے إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فیہ سوائے اس کے کہ نظریں جھکا کر ، شرم پیتے ہوئے ، بے چینی کیساتھ ایک مجبوری کے طور پر قبول کر لولیکن با وجود اسکے سخت خفت محسوس کر رہے ہوتے ہو۔وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ اور جان لوکہ اللہ تو غنی ہے اور قابل تعریف ہے۔غنی ہونے کے لحاظ سے اسکو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔حمید ہونے کے لحاظ سے اسکوخبیث چیز پہنچ ہی نہیں سکتی۔جو گندی چیز کسی کو دے گا جو صاحب حمد ہے اس کو گند تو نہیں پہنچ سکتا۔ناممکن ہے۔اسکو وہی چیز ملے گی جو قابل حمد ہو، تعریف کے لائق ہو۔تو تمہارا تعلق خدا سے کٹ جائے گا بجائے اسکے کہ خدا سے تمہارا تعلق قائم ہو۔اس کے بعد ایک اور بڑا لطیف مضمون بیان فرمایا کہ تم جب ہاتھ روکتے ہو اچھی چیزیں پیش کرنے سے تو اسکے پیچھے کوئی بات ہے اور بات یہ ہے کہ شیطان تمہیں ایسے رستے پر ڈال رہا ہے جس رستے پر پڑ کے خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے تم محروم ہوتے چلے جاؤ گے اور پھر بھی تمہاری آرزوئیں پوری نہیں ہوسکیں گی۔تمہارے نفس کی پیاس کبھی بجھ نہیں سکے گی اور تم بد سے بدتر حال میں مبتلا ہوتے چلے جاؤ گے۔الشَّيْطنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ خدا کی راہ میں جو کنجوسی کرنے والے ہیں ان کا آغا ز اس بات سے ہوتا ہے کہ شیطان انہیں فقر سے ڈراتا ہے کہ تم غریب ہو جاؤ گے فقیر بن جاؤ گے، جو کچھ آتا ہے تم دیتے چلے جاتے ہو، تمہارے پاس کیا رہے گا، تمہاری تجارتیں کیسے چلیں گی، بیوی بچوں کے حقوق کیسے پورے کرو گے، روزمرہ زندگی میں جو تم نے ایک عزت بنائی ہوئی ہے اسکے تقاضے کیسے پورے کرو گے۔تو فقر سے ڈراتا ہے اور جو ڈرنے والا ہے وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ شیطان نے کب دیا تھا جو اسکے تصرفات کے متعلق ہمیں نصیحتیں کر رہا ہے۔دیا تو خدا نے تھا اور جس کو ہم دے رہے ہیں وہی ہے جس نے ہمیں دیا تھا تو یہ فقر کا سودا ہوہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے کہ عطا کرنے والا لے اور اس طرح لے کہ اسکوغریب اور فقیر اور منگتا بنا کے چھوڑ دے۔اگر یہ تھا تو پھر دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔تو ایک ایسی ناممکن بات ہے جو کسی صورت میں بھی عقل میں