خطبات وقف جدید — Page 406
406 حضرت خلیفہ مسیح الرابع محصور ہوئے خدا کا واضح وعدہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں بہت برکت دے گا۔اور فصاحت اور بلاغت کا عجیب انداز ہے کہ پہلے یہ مضمون بیان فرمایا اور پھر بعد میں ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی خاطر ان لوگوں کو برکت ملنے والی ہے۔فرمایا: اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِی اگر تم خدا کی راہ میں اپنے اخراجات کو، قربانیوں کو کھول کر پیش کرو، اعلانیہ کر دوتا کہ دوسروں کو تحریک ہو تو فَنِعِمَّا هِی یہ بھی اچھی بات ہے۔اس میں کوئی برائی نہیں وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَراءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لیکن اگر تم ان کو خفی رکھو اور خدا کی راہ کے فقیروں پر خرچ کرو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيَاتِكُمْ ان غریبوں کی خدمت کا جو سب سے بڑا فیض تمہیں پہنچے گا وہ یہ ہے کہ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيَاتِكُمُ الله تعالیٰ تمہاری بدیاں دور کرے گا۔تمہاری کمزوریاں دور فرمائے گا۔پس تمام دنیا میں ہمیں تربیت کے جو مسائل درپیش ہیں خاص طور پر ترقی یافتہ آزاد منش ممالک میں ان کا ایک حل قرآن کریم نے یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ خدا کی راہ میں محصور اور غرباء پر خرچ کرو، اسکے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کی کمزوریاں دور فرمائے گا اور خود تمہاری اصلاح کے سامان مہیا فرمائے گا۔پھر فرمایا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔یادرکھو کہ تم جہاں بھی جو کچھ بھی خدا کی راہ میں کرتے ہو تمہارے اعمال سے خدا خوب واقف ہے۔ہر چیز پر اسکی نظر ہے۔تمہارا کوئی عمل بھی ایسا نہیں جو خدا کی نظر میں نہ ہو۔پھر فرمایا: لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَنْ يَّشَاءُ اے محمد ! تجھ پر ان کی ہدایت فرض نہیں ہے۔تو نے پیغام پہنچانا ہے۔نصیحت کرنی ہے اور تو بہترین نصیحت کرنے والا ہے۔وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يشَاء۔ہاں اللہ ہی ہے جس کو چاہے گا ہدایت بخشے گا۔جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔پھر اس جملہ معترضہ کے بعد واپس اس مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَا نفُسِكُمْ ط یا درکھو خدا کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرتے ہو۔فَلَا نُفُسِكُم ط وہ دراصل اپنی جانوں پر خرچ کر رہے ہو۔یہ نہ سمجھو کہ دوسروں پر کوئی احسان کر رہے ہو۔تمہارا خرچ اپنے فوائد کے لحاظ سے اور برکتوں صلى الله کے لحاظ سے خود تم پر ہورہا ہے۔وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مد مصطفی می تے کے تربیت یافتہ ساتھی اپنے نفوس میں برکت کی خاطر خرچ نہیں کر رہے بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کر رہے ہیں۔پس یہ مراد نہ سمجھی جائے۔کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ تعلیم دے رہا ہے کہ اپنے نفس پر خرچ کرنے کی خاطر خرچ کرو۔فرمایا ہم جانتے ہیں کہ تمہارا اعلیٰ مقصد خدا کی رضا ہے مگر جب خدا کی رضا حاصل ہو جاتی ہے تو محض دین میں نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں بھی رضامل جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ایک نتیجہ ہے کہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنی جانوں پر خرچ کرتے ہو۔ان