خطبات وقف جدید — Page 407
407 حضرت خلیفة المسیح الرابع دونوں آیات کے ٹکڑوں کو ملا کر پڑھا جائے تو مضمون یہ بنے گا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو محض اللہ کے پیار کی خاطر اسکی محبت جیتنے کیلئے ، اسکی رضا حاصل کرنے کیلئے کرتے ہو لیکن اس رضا کا ایک ظاہری نتیجہ بھی ضرور نکلے گا اور وہ یہ کہ تمہارے اموال میں ایسی برکت ملے گی کہ گویا تم دوسروں پر نہیں بلکہ خود اپنی جانوں پر خرچ کرنے والے تھے۔اور اس کی مزید تفسیر یہ فرمائی کہ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقره: 273) اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یقین جانو وہ تمہیں خوب لوٹا یا جائے گا۔يُوَفَّ إِلَيْكُمُ میں صرف لوٹانے کا مضمون نہیں بلکہ بھر پور طور پر لوٹایا جائے گا اور تم سے کوئی ظلم نہیں کیا جائیگا۔یہ ایک محاورہ ہے ، طرز بیان ہے۔جب کہا جائے کہ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ نہیں ہے کہ محض عدل کیا جائے گا بلکہ بالکل بر عکس مضمون ہوتا ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ۔ان سے ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ ہوتی ہے کہ انہیں بہت زیادہ دیا جائے گا۔ظلم تو در کنارا تنا عطاء ہوگا کہ احسانات ہی احسانات ہوں گے۔یہ ایک طرز بیان ہے جو مختلف زبانوں میں عربی میں اور خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم میں اس طرز بیان کو اختیار فرمایا گیا تو لَا تُظْلَمُونَ وَلَا يُظْلَمُونَ کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ ظلم نہیں کرے گا۔جتنا دیا اتنا واپس کر دے گا۔مراد یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اتنا دے گا کہ تمہارے پیٹ بھر جائیں گے۔تم کانوں تک راضی ہو جاؤ گے یہ معنیٰ ہے اس آیت کا۔یہ سب بیان کرنے کے بعد فرمایا لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔اس وقت جو ہم خرچ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں تو یہ عام خرچ نہیں بلکہ خصوصیت سے ان فقراء کی خاطر خرچ ہے جو خدا کے رستے میں گھیرے میں آگئے اور ان میں زمین پر چل کر اپنے کمانے کے لئے گنجائش نہیں رہی۔وہ محبت کی رسیوں میں باندھے گئے اور ہمیشہ کے لئے محمد مصطفی میل کے قرب میں انہوں نے ڈیرے ڈال دیئے حالانکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔کھانے کے بھی وہ محتاج ہیں۔پہننے کے بھی ، اوڑھنے کے بھی محتاج ہیں۔ان کی ساری ضرورتیں خدا پر چھوڑ دی گئی ہیں۔اسلئے اللہ تعالیٰ تمہیں فرماتا ہے کہ تم ان کی ضرورتیں پوری کرو، خدا تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا اور تمہاری ضرورتیں پوری کرنے میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو بھی انہی معنوں میں اصحاب الصفہ کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے۔وہ جس رنگ میں بھی ہوں۔جہاں بھی ہوں، خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کو ان کی خدمت کی توفیق بخشے اور ان کا فیض خدا تعالیٰ کے فضلوں کی صورت میں ساری دنیا کی جماعت پر نازل ہوتا رہے۔ہفت روزہ بدر قادیان 12 / مارچ 1992ء)